مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جس کی تپش پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ نے جہاں عالمی سیاست کو لرزا کر رکھ دیا ہے، وہیں سفارتی محاذ پر کچھ ایسی سرگرمیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جو تاریک راہوں میں امیدِ سحر بن کر اُبھر رہی ہیں۔ اس منظرنامے میں جہاں طاقتور قوتیں اپنے تزویراتی مفادات کی جنگ میں مصروف عمل ہیں وہیں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا اس کی بھرپور تائید، ایشیائی ممالک کے متحد ہو کر امن قائم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی اعتراف
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے اسے ہمیشہ سے عالمی بساط پر ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کیا ہے لیکن اسلام آباد نے حالیہ برسوں میں بالخصوص آپریشن بنیان مرصوص کے بعد سے اپنی خارجہ پالیسی کو جس ‘توازن’ اور ‘ثالثی’ کے گرد گھمایا ہے، وہ اس کی سفارتی پختگی کا ثبوت ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مسلم دنیا میں مقام اور واشنگٹن و تہران دونوں کے ساتھ اس کے دیرینہ مراسم اسے ایک ایسا موقع فراہم کرنے کے قابل بناتے ہیں جہاں منجمد سفارت کاری دوبارہ بحال ہو سکے۔ پاکستان کا مذکورہ قدم ثابت کرتا ہے کہ وہ اب صرف بحرانوں کا حصہ بننے کے بجائے ان کا حل نکالنے والی ایک ‘مدبر ریاست’ بن کر ابھر رہا ہے۔
وقتی سمجھوتہ یا پائیدار امن؟
وزیراعظم انور ابراہیم کا بیان محض ایک سیاسی تائید نہیں بلکہ عالمی برادری کے ضمیر پر ایک دستک ہے۔ انہوں نے نہایت اہم کی بات کہی ہے کہ دنیا اب وقتی توقف کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ماضی کے تلخ تجربات گواہ ہیں کہ جب بھی جنگ بندی کے نام پر عارضی معاہدے کیے گئے، انہوں نے صرف اگلی بڑی جنگ کے لیے ایندھن فراہم کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذاکرات “خلوصِ نیت” کی بنیاد پر ہوں، جہاں مقصد صرف جنگ کی شدت کو قابو میں رکھنا نہ ہو بلکہ اس کا جڑ سے خاتمہ ہو۔ انور ابراہیم کا یہ کہنا کہ “کسی اور کے لیے گئے فیصلوں کا خمیازہ خطے کے عوام کو نہیں بھگتنا چاہیے” دراصل ان لاکھوں معصوم انسانوں کی آواز ہے جو اس خونی کشمکش میں غیر ضروری طور پر پس رہے ہیں۔
I welcome Pakistan’s timely and constructive offer to host dialogue between the United States and Iran. I commend Prime Minister Shehbaz Sharif and the leaders of other friendly nations for stepping forward at a moment of acute regional danger, following the earlier commendable… pic.twitter.com/ObtNuey9OS
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) March 25, 2026
عالمی نظام اور انصاف
اپنے پیغام میں ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے بڑی اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ایک المیہ ہے کہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے سب سے بڑے علمبردار ممالک، اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان میں کی جانے والی جارحیت پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اسے ‘حقِ دفاع’ کا لبادہ پہناتے ہیں۔ جب قوانین صرف کمزور کے لیے ہوں اور طاقتور کو احتساب سے استثنیٰ حاصل ہو، تو اس صورت میں عالمی قوانین اپنی ساکھ کھو دیتے ہے۔ ملائیشیا کا مؤقف واضح ہے: عالمی قانون کی بالادستی تبھی ممکن ہے جب وہ سب کے لیے برابر ہو، نہ کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔
ایشیا کی نئی قیادت
پاکستان، ملائیشیا، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا جیسے ممالک کا ایک پیج پر آنا اس بات کی نوید ہے کہ اب عالمی مسائل کے حل کے لیے مغرب کے ایوانوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایشیا کی یہ ابھرتی ہوئی قیادت خود اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی میزبانی کی پیشکش اور ملائیشیا کی تائید اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادے نیک ہوں تو بارود کے ڈھیر پر بھی امن کے پھول کھل سکتے ہیں۔
اب یہ امریکہ اور ایران کے رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ اس ‘تعمیری موقع’ کا کیا جواب دیتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی انا اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیتی ہیں، تو نہ صرف ایک بڑی تباہی ٹل سکتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک پائیدار امن کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔