برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر آٹھ سال بعد کسی برطانوی رہنماء کی حجیثِت سے پہلے سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔ تین روزہ اس دورے میں بیجنگ اور شنگھائی شامل ہیں، جبکہ اختتام پر جاپان کا مختصر دورہ بھی شیڈول ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سیاست اور معیشت میں تیز رفتار تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اسے برطانیہ کی بیرونی اقتصادی و سفارتی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے متوازن کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پس منظر میں۔
دورے کے اہداف
وزیراعظم اسٹارمر کا بنیادی مقصد رسمی ملاقاتوں سے زیادہ چین کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانا اور خطے میں برطانیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ہے، اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں توازن بھی قائم رکھنا ہے۔ چینی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہر کیری براؤن کے مطابق “موجودہ صورت حال کا ایک اہم تضاد یہ ہے کہ لندن مصنوعی ذہانت، صحت عامہ اور ماحولیاتی امور جیسے عالمی مسائل پر واشنگٹن کی بجائے بیجنگ کے زیادہ قریب ہے۔”
اقتصادی محرکات
اسٹارمر کے ہمراہ متعدد کاروباری رہنماء اور دو وزراء بھی شامل ہیں۔ یہ دورہ 2024 کے انتخابی وعدوں کے مطابق عوامی خدمات اور معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے معیار زندگی بلند کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 2025 کے وسط تک چین برطانیہ کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا، جس کے ساتھ کل تجارت تقریباً 100 ارب پاؤنڈ (137 ارب ڈالر) تھی۔ تاہم چین برطانیہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا صرف 0.2 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ امریکہ کا حصہ تقریباً ایک تہائی ہے۔
تنازعات اور سلامتی کے خدشات
برطانوی حکومت نے حال ہی میں لندن میں چین کے متنازع میگا ایمبیسی منصوبے کی منظوری دی ہے، حالانکہ کئی قانون سازوں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ یہ مقام جاسوسی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیاں اور ردعمل
چین کے دورے سے دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ تحقیر آمیز بیانات کے جواب میں، جن میں انہوں نے نیٹو اتحادی افواج کے افغانستان میں “فرنٹ لائن سے پیچھے رہنے” کا حوالہ دیا تھا، اسٹارمر نے واضح کیا: میں ٹرمپ کے بیانات کو توہین آمیز اور قابل مذمت سمجھتا ہوں۔ اگر میں نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو ضرور معافی مانگتا۔
کینیڈا کے تجربے سے سبق
یہ دورہ کینیڈا کی حالیہ چین پالیسی کے تناظر میں ہو رہا ہے، جہاں چینی الیکٹرک گاڑیوں اور کینیڈین کینولا آئل پر ٹیرف میں کمی کے بعد ٹرمپ نے کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کو “گورنر” کہہ کر مخاطب کیا، جسے کینیڈا کی خودمختاری کی توہین سمجھا گیا۔
اس کے بعد کینیڈا نے واضح کیا کہ اس کا چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور وہ امریکہ اور میکسیکو کے ساتھ موجودہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم ہے۔
BREAKING: Trump:
— Clash Report (@clashreport) January 24, 2026
If Governor Carney thinks he is going to make Canada a “Drop Off Port” for China to send goods and products into the United States, he is sorely mistaken.
China will eat Canada alive, completely devour it, including the destruction of their businesses, social… pic.twitter.com/FeQ44CiV9Z
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر گورنر مارک کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’’ڈراپ آف پورٹ‘‘ بنا سکتے ہیں، جہاں سے چینی ایشیاء اور مصنوعات امریکہ میں داخل ہوں، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق چین کینیڈا کو مکمل طور پر نگل لے گا، جس کے نتیجے میں کینیڈین کاروبار تباہ ہوں گے، سماجی ڈھانچہ متاثر ہوگا اور مجموعی طرزِ زندگی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو امریکہ فوری طور پر کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا اور مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا،
سفارتی چیلنجز
ٹرمپ کی دھمکیاں امریکی اتحادیوں کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ چین کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے کا مطلب اب امریکی تجارتی پابندیوں کے خطرے سے بھی جڑ گیا ہے۔ برطانیہ کو بھی اسی طرح کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے امکانات
بیجنگ نے اس موقع کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے جو عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم،مغربی رہنماؤں کے حالیہ دوروں کے نتائج مختلف رہے ہیں، جہاں کینیڈا کو ٹیرف میں نمایاں کمی ملی وہیں فرانس کے صدر کے دورے سے اقتصادی فوائد محدود رہے۔
چائنا اسٹریٹجک رسکس انسٹی ٹیوٹ کے سیم گڈمین کے مطابق، “اگرچہ ملاقاتیں توجہ کا مرکز ہیں، حقیقی نتائج محدود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ دورہ برطانوی معیشت کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہوگا۔”
لندن کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ چین تک رسائی کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرے، بغیر کسی جوابی کارروائی کو جنم دیے – یہ ایک ایسا عمل ہے جو چار دارالحکومتوں میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تناؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل