مقامی ذرائع کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں طالبان کے دفاعی ڈھانچے سے منسلک تنصیبات بھی موجود تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اسے عسکری سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔

April 6, 2026

ای میل میں ایک شخص نے حدید بہنوں کی کامیابی پر سوال اٹھایا تھا، جس پر ایپسٹین نے مبہم جواب دیا، جس کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آ گیا۔

April 6, 2026

اہم مرحلے پر نسیم شاہ کی انجری راولپنڈی کی مہم کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ ٹیم کو باؤلنگ لائن اپ میں نئے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

April 6, 2026

یکم اپریل کو چینی ساختہ ونگ لونگ-2 ڈرون کی تباہی، جو صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس موجود ہے، اور 22 مارچ کو ایرانی جزیرہ جاسک کے قریب اماراتی میراج 2000 طیارے کی پرواز اس بات کے شواہد ہیں۔

April 6, 2026

تھانہ روات پولیس نے بھی کارروائی کرتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 8 افغان باشندوں کو تحویل میں لے لیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔

April 6, 2026

غیر ملکی جنگجوؤں کے ایک مرکز پر گوریلا کارروائی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں مرکز کا ایک حصہ مکمل تباہ ہو گیا جبکہ تقریباً دس طالبان اور انصار اللہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

April 6, 2026

آبنائے ہرمز: بنی نوع انسان کی لائف لائن

آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے
آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت، صنعتوں اور ذرائع آمد و رفت میں خلل پڑ رہا ہے جس سے عالمی سطح پر خانہ جنگیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسے بلیک میلنگ اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اس لیے بین الاقوامی بحری سکیورٹی فورس کی تشکیل اور جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے

April 6, 2026

یہ کالم کسی کی مخالفت یا حمایت میں نہیں بلکہ بنی نوع کی بقا کے لیے لکھا ہے۔ آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ تیل و قدرتی گیس ایل این جی، ہیلیم گیس، ہسپتالوں میں ایم آر آئی، کمپیوٹرز، گاڑیوں، گھریلو آلات مائیکرو چپس، کھاد، خوراک گندم، چاول، سبزیاں اور ادویات کی بڑے پیمانے پر ترسیل بند ہونے سے انسانی زندگیاں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں، ہوشربا مہنگائی، بے روزگاری کا بے قابو جن، توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے صنعتوں اور ذرائع آمد و رفت میں خلل، جس نے دنیا اور خاص کر جنوبی ایشیا کی معیشت و حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس سے عالمی سطح پر متوقع خانہ جنگیوں کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی اہمیت و حساسیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ نے جنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کو ایک پیج پر لا بٹھایا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر طاقت کے ذریعے اسے کھلوانے کے بارے میں غور و خوض کر رہا ہے۔ جس کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لیے لابنگ شروع کر دی گئی ہے، تاکہ طاقت کے استعمال کا قانونی جواز مہیا کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز جسے بعض حلقوں میں آبنائے خالد بھی کہا جاتا ہے، خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع اسٹریٹجک نوعیت کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ جو خلیج فارس کو بحر عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور عمان اور اس سے ملحقہ علاقہ مسندم واقع ہیں۔ اسرائیل، امریکہ و ایران کے درمیان جنگ کے دوران یہ عالمی توجہ کا ہاٹ اسپاٹ بن چکا ہے۔ یہ تقریباً 167 کلومیٹر لمبی اور اس کی چوڑائی 97 کلومیٹر سے لے کر تنگ سے تنگ 33 کلومیٹر تک ہے۔ آبنائے ہرمز جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغرب کے درمیان ایک کمبائن تجارتی پل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی طویل بندش سے سب سے زیادہ متاثر یہی ٹرائیکا ہوگا۔

جنگ کے دوران جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش کو بلیک میلنگ اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس نے اس کی بین الاقوامی تجارتی، سیاسی و عسکری اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ اس کی بندش کو انسانیت کے خلاف جرم گردانا جا رہا ہے، جس سے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ چکی ہیں۔ دنیا بھر میں ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اس حقِ دفاع کو بنی نوع کے لیے وبالِ جان بنا دینا انسانیت کی توہین ہے۔ دنیا بھر کے تمام سربراہانِ مملکت دنیا کو جوہری ایڈونچر سے بچانے کے لیے فوری طور پر ایک بین الاقوامی ریزولیوشن پاس کریں، جس پر تمام ممالک دستخط کر کے اس دستاویز کو بین الاقوامی قانون کی حیثیت دے دیں۔ پھر ہر ملک سے چند افراد لے کر ان پر مشتمل ایک اعلیٰ تربیت یافتہ بین الاقوامی بحری سکیورٹی فورس تشکیل دی جائے، جن کو وقت کے تمام جدید ترین ہتھیار مہیا کیے جائیں، جو آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول اور سیکیورٹی سنبھالے۔ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے ملک سے لے کر ویٹو پاور رکھنے والے کسی بھی ملک کو بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کرنے، بلیک میل کرنے یا یرغمال بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے۔ جس کے ساتھ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں انسانوں کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ اس کو بند کرنا، کسی ایک کا کنٹرول ہونا، قبضہ ہونا یا پھر اجارہ داری قائم کرنا جوہری تصادم کا باعث بن سکتا ہے، حتیٰ کہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں 30 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے چار کلیدی ممالک کے اجلاس میں جہاز رانی کے بہاؤ کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے سلسلے میں پیش کی گئی تجویز بہترین آپشن ہو سکتا ہے، جس کے تحت نہر سویز کی طرز پر فیس وصولی کا نظام نافذ کر کے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے ذریعے تیل کی ترسیل کے انتظام کے لیے ایک کنسورشیم بنایا جائے۔ بعد میں پاکستان کو بھی اس کنسورشیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اپنے دجالی منصوبے کے تحت صہیونی اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثرہ ممالک اپنے ملکوں کو خانہ جنگیوں کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے خود امریکہ سے رجوع کریں۔ کیونکہ یہ سوچ تقویت پکڑ رہی ہے کہ اس بندش سے متاثر ہونے والے ممالک ایک نہ ایک دن امریکی کیمپ میں جا بیٹھیں گے۔ وہ یہ سب کچھ ایران دشمنی میں نہیں بلکہ سب اپنے اپنے ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے، جیسے ایرانی انقلاب کی معاندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خلیجی ممالک امریکی کیمپ میں ہیں۔ آخری پتے کے طور پر امریکہ یورپ کے لیے اپنا تیل “وینزویلا کا تیل” سستے داموں کھول دے گا، بدلے میں لازماً وہ ان کی فورسز کی خدمات لے گا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے برطانیہ کی جانب سے اگلے ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس طلب کرنا کسی انجانے خطرے کا اشارہ کر رہا ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

وینزویلا کے تیل پر قبضے کی حقیقت اب آشکار ہو چکی ہے کہ نیٹو اور مغرب اگر دجالی منصوبوں سے روگردانی کرتے ہیں، تو انہیں کیسے بلیک میل کرنا ہے؟ لہٰذا ایرانی رجیم کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی اور رویوں میں لچک پیدا کرنا ہوگی، قبل اس کے کہ بہت تاخیر ہو جائے۔ “مرگ بر امریکہ” و “مرگ بر اسرائیل” کو چھوڑ کر باقی دنیا کے لیے آبنائے ہرمز کو پہلے کی طرح کھول دیا جائے۔ نیٹو اور یورپ کا جنگ میں حصہ نہ لینا امریکی و اسرائیلی بیانیے کی واضح شکست ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا کو شدید مشکلات کا شکار کر کے دجالی شکست خوردہ بیانیے کو موقع مت دیں، بلکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول کر ‘مرگ بر’ کے خلاف عالمی سیاسی دباؤ کا پتا پوری قوت سے استعمال کیا جائے۔ آبی گزرگاہ کھول کر ہی تیل پر قبضے کی حرص کا راستہ روکا جا سکتا ہے، ورنہ کسی کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔

دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون ناگزیر ہے: پاکستان

متعلقہ مضامین

مقامی ذرائع کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں طالبان کے دفاعی ڈھانچے سے منسلک تنصیبات بھی موجود تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اسے عسکری سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔

April 6, 2026

ای میل میں ایک شخص نے حدید بہنوں کی کامیابی پر سوال اٹھایا تھا، جس پر ایپسٹین نے مبہم جواب دیا، جس کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آ گیا۔

April 6, 2026

اہم مرحلے پر نسیم شاہ کی انجری راولپنڈی کی مہم کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ ٹیم کو باؤلنگ لائن اپ میں نئے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

April 6, 2026

یکم اپریل کو چینی ساختہ ونگ لونگ-2 ڈرون کی تباہی، جو صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس موجود ہے، اور 22 مارچ کو ایرانی جزیرہ جاسک کے قریب اماراتی میراج 2000 طیارے کی پرواز اس بات کے شواہد ہیں۔

April 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *