اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

April 12, 2026

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

April 12, 2026

دونوں طیارے بیک وقت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، تاہم لینڈنگ کے وقت کور فلائٹ مختلف راستہ اختیار کرتی ہوئی شمالی علاقوں کی جانب چلی گئی۔

April 12, 2026

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔

April 12, 2026

افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔
افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات کے دھماکوں کے بعد فوری طور پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں پہلے سے موجود گروہوں نے ہنگامی سرگرمیاں کیں۔

November 25, 2025

افغانستان کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ رات ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق برمل، مغلائی (پکتیکا) اور اسد آباد (کنڑ) میں زوردار دھماکے ہوئے جن میں ایک گاڑی اور قریبی حجرہ بھی متاثر ہوا، جبکہ ہلاکتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ افغان حکام نے ابتدائی بیان میں ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگایا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسلام آباد کی جانب سے بھی کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔

برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔ گزشتہ روز پشاور میں ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی تھی، جس نے سرحدی سکیورٹی خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے۔

سرحدی بیلٹ خصوصاً خوست، برمل، پکتیکا اور کنڑ کو اقوامِ متحدہ کی 2023–24 کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سلسلہ وار رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے ”ٹرانزٹ اور فیسلیٹیشن زون“ کے طور پر ظاہر کیا ہے، جہاں محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ نقل و حمل اور تربیتی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ افغان حکومت اگرچہ ان رپورٹس کو مسترد کرتی ہے، لیکن اب تک کوئی متبادل شواہد بھی فراہم نہیں کر سکی۔

گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے سرحدی اضلاع جن میں خیبر، شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں شامل ہیں، کو افغان سرزمین سے ہونے والی 1000 سے زائد حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ہر بار پاکستان نے کابل سے مشترکہ بارڈر میکانزم، معلومات کے تبادلے اور آزادانہ تصدیقی ٹیموں کی تجویز دی، مگر یہ عملی مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ مشاہدہ یہ بھی رہا ہے کہ جب بھی سرحدی علاقوں میں کسی مشتبہ ہدف پر دھماکا ہوتا ہے، کابل یک دم ”شہری ہلاکتوں“ کے بیانیے کو نمایاں کر دیتا ہے، جب کہ زمینی حقائق اس بیانیے کی تصدیق نہیں کرتے۔

عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات کے دھماکوں کے بعد فوری طور پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں پہلے سے موجود گروہوں نے ہنگامی سرگرمیاں کیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار اپنے مراکز ایسے دیہی گھروں یا مہمان خانوں کے اندر قائم کرتے ہیں جہاں عام شہری بھی موجود ہوتے ہیں، جس سے کسی بھی واقعے کے بعد بیانیہ فوری طور پر ”سویلین“ کے گرد گھومنے لگتا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے تازہ الزام کے برعکس فی الحال کسی فریق نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد گروہ افغانستان کے امن کے لیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے پاکستان کے لیے، اور ان کی مسلسل موجودگی خطے میں کسی دیرپا استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

مزید تفصیلات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

دیکھیں: عالمی سمپوزیم رپورٹ میں افغانستان میں صحافتی آزادی کی 550 سے زائد خلاف ورزیوں کی نشاندہی

متعلقہ مضامین

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔

April 12, 2026

نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ پر بھی ایران کی معاونت کا الزام عائد کیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

April 12, 2026

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *