افغانستان میں مذہبی بیانیے کا ہتھیار: پاکستان کے خلاف ‘جہاد’ کے فتوؤں میں شدت

افغانستان میں طالبان سے وابستہ علماء کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں کو 'جہاد' اور 'فرضِ عین' قرار دیے جانے کے بعد خطے میں نظریاتی اور عسکری کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو سرحد پار دہشت گردی کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے

افغانستان میں طالبان سے وابستہ علماء کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں کو ‘جہاد’ اور ‘فرضِ عین’ قرار دیے جانے کے بعد خطے میں نظریاتی اور عسکری کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو سرحد پار دہشت گردی کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے

سرحدی جھڑپوں میں شدت: پاکستانی فضائیہ کی ننگرہار میں بڑی کاروائی

پاک افغان سرحد پر صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب پاکستانی طیاروں نے ننگرہار میں طالبان کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طالبان نے طورخم اور نوشکی سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں

پاک افغان سرحد پر صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب پاکستانی طیاروں نے ننگرہار میں طالبان کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طالبان نے طورخم اور نوشکی سمیت مختلف مقامات پر پاکستانی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں

افغان وزارت دفاع کا راولپنڈی، کوئٹہ اور مہمند میں فضائی حملوں کا دعویٰ جھوٹا قرار؛ سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو محفوظ قرار دے دیا

افغان وزارتِ دفاع نے پاکستان کے اہم عسکری مراکز پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈا ثابت کر دیا ہے

افغان وزارتِ دفاع نے پاکستان کے اہم عسکری مراکز پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈا ثابت کر دیا ہے

پاکستان کی افغانستان میں فضائی کاروائیاں جاری؛ بگرام ایئربیس سمیت 4 اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان کی افغانستان میں فضائی کاروائیاں جاری؛ بگرام ایئربیس سمیت 4 اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا

بگرام ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں تین میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اڈے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ ایک طیارہ ہینگر (جہاں طیارے کھڑے اور محفوظ کیے جاتے ہیں) بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

نمک حرام

نمک حرام

​اس پورے منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہے۔ انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ دو ایسے ممالک، جن کا کلمہ، مذہب، ثقافت، لباس اور زبان ایک ہو، کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ نئی دہلی کے لیے افغانستان صرف ایک پڑوسی نہیں بلکہ پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے کا ایک “سیکنڈ فرنٹ” ہے۔