افغانستان میں 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

سرحد پار 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی

پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

پکتیکا اور خوست سمیت افغانستان کے 7 علاقوں میں پاکستان کے فضائی حملے؛ متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

پکتیکا اور خوست سمیت افغانستان کے 8 علاقوں میں نامعلوم فضائی حملے؛ متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔

افغانستان کی ازسرِ نو تشکیل کی بحث: نسلی تقسیم، تاریخی خدوخال اور علاقائی تنظیمِ نو

افغانستان کی ازسرِ نو تشکیل کی بحث: نسلی تقسیم، تاریخی خدوخال اور علاقائی تنظیمِ نو

احمد شاہ درانی کے بعد افغانستان میں سیاسی استحکام برقرار رکھنا مشکل ثابت ہوا۔ مختلف حکمرانوں کے ادوار میں مرکزی حکومت کا کنٹرول اکثر بڑے شہروں اور تجارتی راستوں تک محدود رہا، جبکہ ملک کے وسیع حصے نیم خودمختار حیثیت میں رہے۔ اس صورتحال نے داخلی کشیدگی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کو مزید گہرا کیا۔