استنبول مذاکرات پانچ روز بعد کامیاب؛ پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ پانچ روزہ مذاکرات 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک استنبول میں منعقد ہوئے، جن کا مقصد 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا۔
افغانستان میں کاروائی ٹی ٹی پی کے خلاف تھی؛ پاکستان نے حملوں کو متقی کے دورہ بھارت سے جوڑنے کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ بھارت سمیت کسی بھی ملک سے تعلقات رکھ سکتا ہے، تاہم پاکستان کسی بھی ایسی سازش کو برداشت نہیں کرے گا جس میں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے افغان شہریوں کو شہریت دینے کا فیصلہ معطل کر دیا

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا
پاکستان، افغان و سعودی وزرائے صحت کی ملاقات، شعبۂ صحت میں باہمی تعاون پر اتفاق

سہ فریقی ملاقات میں منشیات کے استعمال کی روک تھام اور شعبۂ صحت میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا
افغان طالبان کی پابندیوں سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد دس سال کے بچے بنیادی کتاب نہیں پڑھ سکتے جبکہ 2.13 ملین بچے مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں
گمراہ کن پروپیگنڈا نیٹ ورک: پاکستان کے خلاف افغانستان، را اور موساد کی ہم آہنگ مہم بے نقاب

اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سرحدی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور پاکستان اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم

افغانستان جیسا خطہ جو دہائیوں سے غیر ملکی مداخلت ،جنگ و جدل ،خانہ جنگی اور دیگر مسائل سے دوچار ہے اس وقت ایک مرتبہ پھر غلط راستے پہ چل کے خود کو آگ میں جھونک رہا ہے۔
دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا؛ پاک افغان استنبول مذاکرات ناکام ہو گئے

وفاقی وزیر عطا تارڑ کے مطابق پاکستان کے پیش کردہ شواہد مضبوط اور ناقابلِ تردید تھے مگر افغان وفد نے الزام تراشی اور عدمِ سنجیدگی کا رویہ اپنائے رکھا
استنبول میں پاک افغان مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مذاکرات کے بعد بیان میں کہا کہ “پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔” انہوں نے واضح کیا کہ “اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی تو پاکستان معاہدے کو غیر مؤثر سمجھنے میں حق بجانب ہوگا
طالبان کے اندرونی مسائل اور مالی مفادات نے استنبول مذاکرات کو لگ بھگ ناکام بنا دیا

استنبول مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ طالبان وفد کے اندرونی اختلافات اور امریکا کو بطورِ ضامن لانے کے غیر متوقع مطالبے تھے، جس کا واضح مقصد مالی امداد بحال کرنا تھا