آزاد کشمیر انتخابات، نکیال میں پی پی پی کارکن مختار یونس کی ہلاکت، بلاول بھٹو کا مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پر الزام۔

July 27, 2026

نام کے تقدس اور عمل کی حقیقت؛ فاروقِ اعظمؓ کا دورِ حکومت، 1979 کے نعرے، اور طالبان حکومت کے تحت بدخشاں و زیبک میں ابھرتی مسلح مزاحمت کے بعد امارتِ اسلامیہ کے لیے درپیش چیلنجز۔

July 27, 2026

ایرانی فوج کی وارننگ، مستقبل میں کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، آپریشن مرصاد کی سالگرہ پر بیان جاری۔

July 27, 2026

فتنہ الہندوستان کے گرفتار رکن حبیب اللہ کا تنظیم کے اندرونی حالات پر انکشاف، مالی لالچ سے بھرتی، سخت تربیت اور کارروائیوں کی تفصیلات بے نقاب۔

July 27, 2026

طالبان کے انکاری بیانیے کے باوجود بدخشاں میں مزاحمت میں اضافہ، افغانستان فریڈم فرنٹ کی زیبک میں چوکیوں پر قبضے کی نئی ویڈیوز جاری۔

July 27, 2026

بدخشاں میں سکیورٹی خرابی کے بعد امارتِ اسلامیہ رہنما اسماعیل غزنوی کا سب ٹھیک ہونے کا دعویٰ، زمینی حقائق مختلف، زیباک اور ڈیورنڈ لائن کے قریب جھڑپیں جاری۔

July 27, 2026

افغانستان میں کاروائی ٹی ٹی پی کے خلاف تھی؛ پاکستان نے حملوں کو متقی کے دورہ بھارت سے جوڑنے کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ بھارت سمیت کسی بھی ملک سے تعلقات رکھ سکتا ہے، تاہم پاکستان کسی بھی ایسی سازش کو برداشت نہیں کرے گا جس میں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔
افغانستان میں کاروائی ٹی ٹی پی کے خلاف تھی؛ پاکستان نے حملوں کو متقی کے دورہ بھارت سے جوڑنے کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کے مطابق ہیں۔

October 30, 2025

پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جسے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت سے جوڑنا محض طالبان پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانا تھا، جنہوں نے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق 7 اور 8 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب اورکزئی ضلع میں ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی اہلکار، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شامل تھے، شہید ہوئے۔ اس حملے کے جواب میں پاکستان نے 9 اکتوبر کو افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائی کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائی کسی سفارتی سرگرمی کے ردعمل میں نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک قانونی دفاعی اقدام تھا۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ بھارت سمیت کسی بھی ملک سے تعلقات رکھ سکتا ہے، تاہم پاکستان کسی بھی ایسی سازش کو برداشت نہیں کرے گا جس میں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ پاکستان نے متعدد بار اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے خلاف ہیں، افغان شہریوں یا طالبان حکومت کے اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق 10 سے 11 اکتوبر کی شب طالبان فورسز نے کنڑ سے بہرامچہ تک پاکستانی سرحد پر حملے شروع کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے مؤثر جواب دیا۔ 11 سے 12 اکتوبر کی شب اسپن بولدک کے قریب بھی ایک حملہ کیا گیا، جس میں 15 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 18 اکتوبر کو پاکستان نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر خوست اور پکتیکا میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں 40 سے 50 دہشت گرد، بشمول اہم کمانڈر ہلاک ہوئے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کے مطابق ہیں۔ کابل حکومت کے لیے انتخاب واضح ہے. یا تو وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورک ختم کرے یا خطے میں عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری قبول کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، لیکن اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

دیکھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم

متعلقہ مضامین

آزاد کشمیر انتخابات، نکیال میں پی پی پی کارکن مختار یونس کی ہلاکت، بلاول بھٹو کا مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پر الزام۔

July 27, 2026

نام کے تقدس اور عمل کی حقیقت؛ فاروقِ اعظمؓ کا دورِ حکومت، 1979 کے نعرے، اور طالبان حکومت کے تحت بدخشاں و زیبک میں ابھرتی مسلح مزاحمت کے بعد امارتِ اسلامیہ کے لیے درپیش چیلنجز۔

July 27, 2026

ایرانی فوج کی وارننگ، مستقبل میں کسی بھی حملے کا پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، آپریشن مرصاد کی سالگرہ پر بیان جاری۔

July 27, 2026

فتنہ الہندوستان کے گرفتار رکن حبیب اللہ کا تنظیم کے اندرونی حالات پر انکشاف، مالی لالچ سے بھرتی، سخت تربیت اور کارروائیوں کی تفصیلات بے نقاب۔

July 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *