جنگ بندی کے دوران دراندازی کی کوشش ناکام، 50 دہشتگرد ہلاک

پاک افغان عارضی جنگ بندی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے دہشتگردوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی، جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے 50 کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کردیا
پاکستان افغانستان جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائیں: زلمے خلیل زاد

پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات میں قیامِ امن کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں
افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف عوام کا پاک فوج کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی

بلوچستان کے مختلف شہروں میں عوامی ریلیوں، مظاہروں اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جن میں شہریوں نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے اور افغان طالبان کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
سفارتی کوششوں سے سرحد پار آپریشن تک – پاکستان کا دوٹوک پیغام

پاکستان کا موقف دفاعی ہے، جارحانہ نہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
طالبان حکومت کا پروپیگنڈا بے نقاب؛ اسپن بولدک میں جھڑپوں کی اصل حقیقت

پاک فوج نے جوابی کاروائی میں اُن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو پاکستانی چوکیوں پر حملے میں ملوث تھے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان آئندہ 48 گھنٹوں کیلئے جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا

وزارت کے مطابق یہ جنگ بندی طالبان کی درخواست پر طے پائی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اسپن بولدک میں پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی، افغان طالبان جنگ بندی کے لیے مجبور

افغان طالبان نے اسپن بولدک میں پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی کے بعد جنگ بندی کی درخواست کر دی
بھارت اور افغان حکومت کی پروپیگنڈا مہم ایک مرتبہ پھر بے نقاب

پاکستان کی جانب سے کبھی بھی اس قسم کی کوئی ویزا درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ یہ افواہیں پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس میں افغان طالبان بھارتی ایما پر اس پروپیگندے کو پھیلا رہے ہیں
پاکستان نے افغانستان پر سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا

پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی اور سہیل آفریدی کی ذمہ داریاں
اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔