باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ٹی ٹی پی نائب گورنر کا بھائی امان اللہ ہلاک ہوگیا۔ افغانستان سے ملنے والی ویڈیو نے سرحد پار روابط کی تصدیق کی ہے۔

May 7, 2026

تاجکستان کے صوبہ صغد میں 250 کے قریب افغان مہاجرین کو کریک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

May 7, 2026

افغانستان میں مذہبی و علمی شخصیات، بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے علماء کے مسلسل قتل اور تحقیقات میں ناکامی نے طالبان حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے

May 7, 2026

بلوچستان اپنی ساحلی پٹی، بلند پہاڑوں اور صحراؤں کے باعث سیاحت کے لیے اہم خطہ ہے، جہاں پہلی بار جامع سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو منظم کیا جا رہا ہے۔

May 7, 2026

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان دیرینہ تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں غداری کے الزامات، نام نہاد عدالتوں کی سزاؤں اور طبقاتی تضاد نے ان کے داخلی زوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

May 7, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

May 7, 2026

سفارتی کوششوں سے سرحد پار آپریشن تک – پاکستان کا دوٹوک پیغام

پاکستان کا موقف دفاعی ہے، جارحانہ نہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
سفارتی کوششوں سے سرحد پار آپریشن تک - پاکستان کا دوٹوک پیغام

پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل عرصے تک سفارتی راستہ اختیار کیا، لیکن بار بار کی خلاف ورزیوں کے بعد اس نے بالآخر فضائی کارروائیاں شروع کیں۔

October 16, 2025

پاکستان نے افغان سرحد پر حالیہ کارروائیوں کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اب صرف سفارتی کوششیں نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے اپنے دفاعی اور عسکری عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

گزشتہ برسوں میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کیں۔ اسلام آباد نے امن، رابطے اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے سہہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ پاکستانی وزرائے داخلہ، خارجہ اور ریلوے کے اعلیٰ سطحی دورے بھی کابل تک پہنچے۔ افغان حکام نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں بھی طے پایا تھا۔

تاہم، ان یقین دہانیوں کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان حملوں کے پیچھے افغان نژاد جنگجوؤں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد ٹی ٹی پی کے ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے منظم کیے گئے۔

پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل عرصے تک سفارتی راستہ اختیار کیا، لیکن بار بار کی خلاف ورزیوں کے بعد اس نے بالآخر فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ ان حملوں میں ٹی ٹی پی کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ طور پر تنظیم کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو ہلاک کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔ افغان حکام نے ان کارروائیوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم اسلام آباد نے انہیں دفاعی اقدامات قرار دیا۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بھارت کے طویل دورے کے دوران دونوں ممالک نے بیانات اور میڈیا مہمات کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ اپنایا۔ بھارتی میڈیا نے یہ غلط تاثر دیا کہ داعش کے مراکز پاکستان میں موجود ہیں، حالانکہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس واضح طور پر بتاتی ہیں کہ اس گروہ کے ٹھکانے افغانستان کے اندر ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی دفاعی کارروائیوں میں 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، متعدد تربیتی مراکز تباہ کیے گئے جبکہ 21 سرحدی چوکیوں پر عارضی کنٹرول حاصل کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران 28 پاکستانی اہلکار شہید ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں افغان عوام یا ریاست کے خلاف نہیں بلکہ ان دہشت گرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔

افغان افواج کی جوابی فائرنگ کے بعد پاکستان نے فوری اور بھرپور ردِعمل دیا۔ پاکستانی فضائیہ اور زمینی افواج نے قندھار اور کابل میں اہم عسکری اور دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی افواج نے متعدد افغان چوکیوں پر قبضہ کیا اور “غزنالی پوسٹ” پر قومی پرچم لہرایا جو افغان حدود کے تین کلومیٹر اندر واقع ہے۔

کرم، طورخم، غلام خان اور انگور اڈہ سمیت تمام اہم سرحدی گزرگاہیں بند کر دی گئی ہیں جس سے تجارت اور آمدورفت رک گئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ انسانی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق، “پاکستان کی کارروائی کسی طویل جنگ کا آغاز نہیں بلکہ سرحدی تحفظ کے لیے محدود فوجی اقدام ہے۔ پاکستان کا مقصد افغان فوج کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کا خاتمہ ہے۔”

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال اور شمولیتی افغانستان چاہتا ہے، مگر طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی۔ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔”

جیسے جیسے 48 گھنٹوں کی جنگ بندی نافذ ہوئی ہے، دنیا کی نظریں اس پر جمی ہیں کہ آیا یہ امن کی جانب پہلا قدم ثابت ہو گا یا نہیں۔ ایک بات بہرحال واضح ہے — پاکستان کا موقف دفاعی ہے، جارحانہ نہیں۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔

نوٹ: یہ آرٹیکل سب سے پہلے 16 اکتوبر 2025 کو ایچ ٹی این ورلڈ پر شائع کیا گیا۔

دیکھیں: پاکستان نے افغانستان پر سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا

متعلقہ مضامین

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں ٹی ٹی پی نائب گورنر کا بھائی امان اللہ ہلاک ہوگیا۔ افغانستان سے ملنے والی ویڈیو نے سرحد پار روابط کی تصدیق کی ہے۔

May 7, 2026

تاجکستان کے صوبہ صغد میں 250 کے قریب افغان مہاجرین کو کریک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکال کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

May 7, 2026

افغانستان میں مذہبی و علمی شخصیات، بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے علماء کے مسلسل قتل اور تحقیقات میں ناکامی نے طالبان حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے

May 7, 2026

بلوچستان اپنی ساحلی پٹی، بلند پہاڑوں اور صحراؤں کے باعث سیاحت کے لیے اہم خطہ ہے، جہاں پہلی بار جامع سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو منظم کیا جا رہا ہے۔

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *