چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محمود اشرفی نے مولانا فضل الرحمان کو حکومتی معاملات میں مناسب حصہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پہلے صدارت کی پیشکش کی گئی، لیکن بعد میں ریاستی معاملات میں حصہ نہ دے کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
تعظیم حرمین شریفین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو ان کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ مولانا کا فون سنیں اور ان کے لیے ایسی کمیٹی قائم کریں جو وزارت کے برابر ہو، جبکہ انہیں اس کا چیئرمین بھی بنایا جائے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو جہاز استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔ ان کے بقول پہلے انہیں صدارت کا لالچ دیا گیا، تاہم پانچ فروری کو دربار عالیہ میں انہیں اندازہ ہوگیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان کی سیاسی حیثیت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر امن کے لیے کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم ان کی طبیعت بھی اکثر خراب رہتی ہے اور بلڈ پریشر بڑھنے کی صورت میں انہیں تقریر کے بجائے آرام کرنا چاہیے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
طاہر اشرفی نے اپنے خطاب میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر روز اول سے امت مسلمہ کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے اور حرمین شریفین کا دفاع پاکستان کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے بادشاہ اور عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان کے عوام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کو تیار ہیں۔
طاہر اشرفی نے ایران کی جانب سے حوثیوں سے خود کو الگ کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن کی اپیل
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے بلوچستان کی خواتین اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر بچیوں کو تعلیمی اداروں سے اٹھا کر دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے والے تمام فریقین کو مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہییں۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنا وزیرِ اعظم اور گورنر کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی فریقین سے اختلافات ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل بھی کی۔
طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاک فوج پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔





