"> بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے - HTN Urdu

بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے

بھارت میں 1984ء کے سکھ مخالف فسادات کو 42 سال مکمل ہو گئے، جن میں سرکاری سرپرستی کے تحت ہزاروں بے گناہ سکھوں کا قتلِ عام کیا گیا۔
بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے

بھارت میں 1984ء کے سکھ مخالف قتلِ عام کو 42 برس بیت گئے؛ بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کی باقاعدہ نسل کشی کی گئی تھی۔

November 1, 2026

بھارت میں سکھوں کے خلاف ہونے والے بدترین اور شرمناک قتلِ عام کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ 1 نومبر 1984ء کا دن بھارتی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے انسانی حقوق پر گہرا حملہ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ روح فرسا واقعات 31 اکتوبر 1984ء کو سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد شروع ہوئے۔ اس کے بعد لگاتار 3 روز تک سکھ برادری کے خلاف بلا روک ٹوک خونریز تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔

ان فسادات میں ہزاروں بے گناہ سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جبکہ سیکڑوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی جریدوں نے ان واقعات کو بھارتی تاریخ کا انتہائی شرمناک باب قرار دیا ہے۔

عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے ووٹر فہرستوں کی مدد سے چن چن کر سکھوں کی شناخت کی اور انہیں نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ‘ہیومن رائٹس واچ’ کا کہنا ہے کہ یہ تشدد اتفاقی نہیں بلکہ بھارتی حکومت کی سرپرستی میں چلائی جانے والی باقاعدہ نسل کشی کی مہم تھی۔

متعلقہ مضامین

راولپنڈی کے نیا محلہ میں تین منزلہ عمارت میں آتشزدگی، ریسکیو 1122 کی آٹھ گاڑیوں نے آگ پر قابو پالیا۔

November 1, 2026

سیاست گھر کے فارن فنڈنگ واچ نے میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی غیر ملکی مالی معاونت کو قومی سلامتی کی ترجیحات کے منافی قرار دے دیا۔

November 1, 2026

بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی، بھگونت مان نے مذہبی عقیدت کو سیاست سے بالاتر رکھنے پر زور دیا۔

November 1, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، امریکا پاکستان کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔

November 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *