افغان طالبان حکومت کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں بجٹ کا 88 فیصد حصہ فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور مقامی تحقیقات کے مطابق افغانستان کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر 131 ارب افغانی سے گر کر محض 24 ارب افغانی رہ گیا ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں 60 ارب افغانی مالیت کے ترقیاتی منصوبے عملاً معطل ہو چکے ہیں جو تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔
مالیاتی بدانتظامی کے انکشافات
طالبان کی خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف بجٹ نے 4.1 ارب افغانی کی مالی بد عنوانی کی ہے۔ ان اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ جنگجوؤں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص کیا گیا ہے جو بجٹ کا تقریباً 65 فیصد بنتا ہے۔
قیادت پر اخراجات
مزید انکشاف ہوا ہے کہ طالبان قیادت بالخصوص ملا ہیبت اللہ کی سیکورٹی اور دیگر انتظامی اخراجات کے لیے سالانہ اربوں افغانی مختص کیے گئے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف طالبان قیادت کی سکیورٹی پر سالانہ 2.3 ارب افغانی سے زائد خرچ کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ شعبے
ترقیاتی بجٹ میں کمی کے باعث تعلیمی شعبے میں 3,800 سے زائد اسکولوں کے تعمیر و مرمت کے منصوبے معطل ہو گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں 28 اضلاع میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر رک گئی ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں بشمول 1,200 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور 8 ہائیڈرو پاور منصوبے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
دیکھیں: افغانستان کے کینسر مریضوں کے لیے بھارت کی 18 اقسام کی ادویات کی فراہمی