طالبان پولیس کمانڈ صوبہ قندوز نے خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق انہیں چار دیگر خواتین کے ہمراہ ایک مبینہ “فوجداری واقعے” کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کی نوعیت، تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس مبہم بیان کے برعکس، نذیرہ رشیدی کے خاندان نے میڈیا سے گفتگو میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ طالبان حکام ناظرہ پر جبراً اعترافِ جرم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرماندهی پولیس طالبان در قندز در خبرنامهای بازداشت ناظره رشیدی، خبرنگار، را تأیید کرده و گفته که وی همراه با چهار زن دیگر در پیوند به یک «رویداد جنایی» بازداشت شدهاند.
— Amu TV (@AmuTelevision) January 12, 2026
خانواده بانو رشیدی گفته که او در معرض «اعترافگیری اجباری» توسط طالبان قرار دارد.https://t.co/99ENOZCDcq pic.twitter.com/vTRoZSOCQN
خاندان کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، یہ گرفتاری ظلم پر مبنی ہے۔ ان کا الزام صرف یہ ہے کہ وہ ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں اور سماجی مسائل پر آواز اٹھاتی ہیں۔ انہیں دھمکی دے کر جھوٹے اعترافات پر دستخط کرائے جا رہے ہیں۔ ہم ان کی سلامتی کے بارے میں سخت فکرمند ہیں۔”
نذیرہ رشیدی مقامی میڈیا اور سماجی سرگرمیوں سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کی گرفتاری نے افغانستان میں میڈیا، خاص طور پر خواتین صحافیوں کے لیے کام کرنے کے حالات پر ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔
افغانستان میں دم توڑتی صحافت
نذیرہ رشیدی کا معاملہ افغانستان میں اظہار رائے کی آزادی کے بڑھتے ہوئے بحران کی ایک کڑی ہے۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ سینکڑوں صحافیوں نے ملک چھوڑ دیا ہے، متعدد میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں، اور خواتین صحافیوں کو دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان پر نہ صرف سخت سماجی پابندیاں عائد ہیں، بلکہ انہیں کام کرنے کے لیے مرد محرم کی موجودگی کی بھی شرط ہے۔ “قومی سلامتی”، “اخلاقیات” یا “فوجداری” جیسے مبہم الزامات کے تحت صحافیوں کی گرفتاریاں عام ہو چکی ہیں۔
دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا