افغان نیشنل بسیج فرنٹ کے سیاسی ڈائریکٹر جاوید کرگر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پاکستان آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرے تو وہ ایک سال کے اندر افغانستان سے طالبان اور داعش خراسان کو ختم کر سکتے ہیں۔
راسا نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جاوید کرگر نے کہا کہ طالبان براہ راست جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ صرف عام لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کے 20 سالہ دور میں طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے لڑ کر کسی ایک صوبے یا بڑے شہر پر بھی قبضہ نہیں کر سکے تھے۔
جاوید کرگر کا کہنا تھا کہ بعد میں خفیہ معاہدوں کے نتیجے میں طالبان کو اقتدار ملا جس میں ان کے بقول زلمے خلیل زاد، اشرف غنی اور بعض افغان جرنیلوں کا کردار شامل تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہی معاہدوں کے باعث طالبان کو افغانستان پر کنٹرول حاصل ہوا۔
دیکھئیے:پاکستان کے خلاف محاذ پر طالبان کی نئی تیاری؟ ہیبت اللہ نے جنگ کی کمان قریبی ساتھی کے سپرد کر دی