افغانستان میں تعینات سفارتی اور قونصلر مشنز کے رابطہ کونسل نے طالبان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کے قانونی ڈھانچے میں ایک انتہائی پسماندہ اقدام قرار دیا ہے۔
کونسل کے مطابق اس قانونی ضابطے میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور پرامن طریقے سے اظہار رائے کی بنیادی آزادی کو مجرمانہ سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی سول و سیاسی حقوق کے معاہدے اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے سے متعلق کنونشن جیسے عالمی معاہدوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نیا قانونی نظام قانون کی حکمرانی کے بجائے سماجی مرتبے اور حیثیت کو فوقیت دیتا ہے، جس کے تحت مذہبی عہدیداروں کو خاص قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس سے معاشرے میں غیر مساوی سماجی طبقوں کی تشکیل ہوگی اور شہریوں کو انصاف تک یکساں رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔
Statement of the Coordination Council of the Diplomatic and Consular Missions of the I.R Afghanistan 🇦🇫 on the Taliban’s New Criminal Procedure Code pic.twitter.com/3iBpE5fz99
— Afghanistan in Geneva (@AfghanistanInCH) January 27, 2026
بین الاقوامی سفارتی مشنز کے اس مشترکہ بیان میں نئے فوجداری ضابطے کو “قانونی طور پر ناقابلِ دفاع” قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ درحقیقت “معاشرے میں درجہ بندی، وفاداری کو یقینی بنانے اور خوف کے ذریعے کنٹرول قائم کرنے کا ایک آلہ” ہے۔ یہ بیان افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور طالبان حکومت پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لائے۔
اس موقع پر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ضابطہ افغان معاشرے اور بین الاقوامی تعلقات پر دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ اس سے نہ صرف ملک کے اندر سماجی تقسیم گہری ہوگی، بلکہ خواتین اور اقلیتوں کے خلاف ساختی امتیاز کو بھی قانونی تحفظ مل جائے گا۔ مزید برآں قانونی عدم شفافیت اور احتساب کے فقدان سے عوامی اعتماد حکومتی اداروں سے اٹھ سکتا ہے، جو طویل المدتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، ایسے قوانین افغانستان کی عالمی برادری میں تنہائی کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے ممکنہ معاشی پابندیاں، ترقیاتی امداد میں کمی اور سفارتی مراکز میں اثرورسوخ کے محدود ہونے کا خطرہ پیدا ہو گا۔
ان تمام خدشات کے پیش نظر سفارتی مشنز نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر اقدامات کرے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز کو نہ صرف اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے، بلکہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ٹھوس سفارتی اور عملی حکمت عملی بھی تیار کرنی چاہیے۔ عالمی دباؤ اور مربوط کوششیں ہی طالبان حکومت کو بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق اپنے قوانین میں اصلاحات پر مجبور کر سکتی ہیں اور افغان عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دلوا سکتی ہیں۔
دیکھیے: پاکستان کے سرحدی علاقوں میں انتشار پھیلانے کے لئے افغان طالبان کا کمیشن متحرک ہو گیا