...
اگر آج اسلاموفوبیا کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہی تعصب کسی اور مذہب، قوم یا تہذیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

March 15, 2026

تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔

March 15, 2026

آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔

March 15, 2026

ہابرماس کو ایک ایسے “ناقابلِ تسخیر امید پرست” کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب دیکھنے کے باوجود انسانیت سے بھروسہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ایک ایسے معمار کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے جدید یورپ کی فکری بنیادیں رکھیں اور “آئینی حب الوطنی” کا تصور دیا۔

March 15, 2026

شوراندام کے علاقے میں واقع قندھار کے صوبائی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے ہیڈکوارٹر پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا

March 15, 2026

چین دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے

March 15, 2026

طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر بین الاقوامی تشویش

افغانستان میں طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر بین الاقوامی سفارتی و قونصلر کونسل کی تشویش، صنفی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ گئے
افغانستان میں طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر بین الاقوامی سفارتی و قونصلر کونسل کی تشویش، صنفی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ گئے

رابطہ کونسل نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے افغانستان میں انسانی حقوق اور قانونی احتساب کے لیے نگرانی کرنے کی اپیل کردی

January 28, 2026

افغانستان میں تعینات سفارتی اور قونصلر مشنز کے رابطہ کونسل نے طالبان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کے قانونی ڈھانچے میں ایک انتہائی پسماندہ اقدام قرار دیا ہے۔

کونسل کے مطابق اس قانونی ضابطے میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور پرامن طریقے سے اظہار رائے کی بنیادی آزادی کو مجرمانہ سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی سول و سیاسی حقوق کے معاہدے اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے سے متعلق کنونشن جیسے عالمی معاہدوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نیا قانونی نظام قانون کی حکمرانی کے بجائے سماجی مرتبے اور حیثیت کو فوقیت دیتا ہے، جس کے تحت مذہبی عہدیداروں کو خاص قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس سے معاشرے میں غیر مساوی سماجی طبقوں کی تشکیل ہوگی اور شہریوں کو انصاف تک یکساں رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔

بین الاقوامی سفارتی مشنز کے اس مشترکہ بیان میں نئے فوجداری ضابطے کو “قانونی طور پر ناقابلِ دفاع” قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ درحقیقت “معاشرے میں درجہ بندی، وفاداری کو یقینی بنانے اور خوف کے ذریعے کنٹرول قائم کرنے کا ایک آلہ” ہے۔ یہ بیان افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور طالبان حکومت پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لائے۔

اس موقع پر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ضابطہ افغان معاشرے اور بین الاقوامی تعلقات پر دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ اس سے نہ صرف ملک کے اندر سماجی تقسیم گہری ہوگی، بلکہ خواتین اور اقلیتوں کے خلاف ساختی امتیاز کو بھی قانونی تحفظ مل جائے گا۔ مزید برآں قانونی عدم شفافیت اور احتساب کے فقدان سے عوامی اعتماد حکومتی اداروں سے اٹھ سکتا ہے، جو طویل المدتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، ایسے قوانین افغانستان کی عالمی برادری میں تنہائی کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے ممکنہ معاشی پابندیاں، ترقیاتی امداد میں کمی اور سفارتی مراکز میں اثرورسوخ کے محدود ہونے کا خطرہ پیدا ہو گا۔

ان تمام خدشات کے پیش نظر سفارتی مشنز نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر اقدامات کرے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز کو نہ صرف اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنی چاہیے، بلکہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ٹھوس سفارتی اور عملی حکمت عملی بھی تیار کرنی چاہیے۔ عالمی دباؤ اور مربوط کوششیں ہی طالبان حکومت کو بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق اپنے قوانین میں اصلاحات پر مجبور کر سکتی ہیں اور افغان عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دلوا سکتی ہیں۔

دیکھیے: پاکستان کے سرحدی علاقوں میں انتشار پھیلانے کے لئے افغان طالبان کا کمیشن متحرک ہو گیا

متعلقہ مضامین

اگر آج اسلاموفوبیا کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہی تعصب کسی اور مذہب، قوم یا تہذیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

March 15, 2026

تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔

March 15, 2026

آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔

March 15, 2026

ہابرماس کو ایک ایسے “ناقابلِ تسخیر امید پرست” کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب دیکھنے کے باوجود انسانیت سے بھروسہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ایک ایسے معمار کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے جدید یورپ کی فکری بنیادیں رکھیں اور “آئینی حب الوطنی” کا تصور دیا۔

March 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.