90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

امریکہ نے بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے ‘بلوچستان لبریشن آرمی’ کو نامزد دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کاروائیوں کی بھرپور حمایت کی ہے

February 6, 2026

طالبان کے اندرون خانہ چلنے والے اختلافات اب عالمی میڈیا کے سامنے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سراج الدین حقانی کے بھائی کا مرکزی قیادت پر سخت تنقیدی بیان ہے

February 6, 2026

سی ڈی اے کے مطابق ڈان نیوز نے تاریخی یادگار کی منتقلی کے حوالے سے غلط رپورٹنگ کی ہے، جس سے عوام کو گمراہ کیا گیا

February 6, 2026

اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، جس میں 5 افراد جاں بحق اور 4 زخمی

February 6, 2026

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

February 5, 2026

طالبان کے اندرونی اختلافات عیاں: حقانی گروپ کے بیان نے “ہم ایک ہیں” کا دعویٰ جھوٹا ثابت کر دیا

طالبان کے اندرون خانہ چلنے والے اختلافات اب عالمی میڈیا کے سامنے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سراج الدین حقانی کے بھائی کا مرکزی قیادت پر سخت تنقیدی بیان ہے
طالبان کے اندرون خانہ چلنے والے اختلافات اب عالمی میڈیا کے سامنے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سراج الدین حقانی کے بھائی کا مرکزی قیادت پر سخت تنقیدی بیان ہے

موجودہ حالات نے طالبان کے دعوے "ہم ایک ہیں" کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے، کیونکہ سراج الدین حقانی کے بھائی کے بیانات اور سابقہ ویڈیوز قیادت کے درمیان اختلافات اور تشدد آمیز عملی کاروائیوں کو ظاہر کرتے ہیں

February 6, 2026

طالبان حکومت کی یکجہتی کا دعویٰ ان کے اپنے ہی اندر سے اٹھنے والی صداؤں نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے مبینہ طور پر زیرِ زمین چلنے والے اندرونی اختلافات اب پسِ دیوار نہیں، بلکہ برسرِعام دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔ اس کا تازہ ترین ثبوت وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بھائی ملا انعام الحقانی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے مرکزی قیادت پر براہ راست تنقید کی ہے۔

یہ واقعہ محض ایک خاندانی اختلاف نہیں، بلکہ طالبان حکومت کے دو اہم مراکز قوت حقانی نیٹ ورک اور قندھار کے مرکز کے مابین گہرے ہوتے خلیج کی واضح علامت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ فقط شخصی اختلاف نہیں بلکہ حکومت چلانے کے طریقے، پالیسیوں پر اختیار، اور مستقبل کے وژن پر گہرے نظریاتی و عملی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ واضح اختلافات طالبان کی بین الاقوامی ساکھ اور داخلی استحکام دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ایک طرف جہاں عالمی برادری طالبان حکومت سے واضح مؤقف اور ذمہ دارانہ حکمرانی کی توقع رکھتی ہے، وہیں اندرونی پھوٹ اور چپقلش ان کے ایک آواز ہونے کے دعوے کو مشکوک بنا رہی ہے۔ داخلی سطح پر یہ کشمکش فیصلہ سازی کے عمل کو سست یا معطل کر سکتی ہے، جس کا اثر معیشت، امن و امان اور انتظامیہ پر پڑے گا۔

موجودہ صورتحال نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا ہے کہ وہ روزِ اول سے یہ کہتے آئے ہیں کہ “ہم ایک ہیں، ہمارے مابین کوئی اختلاف نہیں۔” وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے برادر کے بیانات اور اس سے قبل گردش کرنے والی ویڈیوز اس دعوے کے برعکس ایک واضح ثبوت ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ قیادت کے درمیان نہ صرف اختلافات ہیں بلکہ یہ اب تشدد آمیز بیانات اور عملی و عسکری کاروائیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

افغان امور پر ہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ طالبان ایک متحدہ جنگجو گروپ سے ایک متنازعہ حکمران جماعت میں تبدیل ہونے کے چیلنج سے نمٹ رہے ہیں۔ جس اتحاد کے بل پر انہوں نے اقتدار حاصل کیا، قیادت میں وسعت اور حکمرانی کی پیچیدگیوں نے اب اسی کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا طالبان اس اندرونی دباؤ کو سنبھال کر ایک مربوط حکومت کی شکل اختیار کر پاتے ہیں، یا یہ اختلافات ان کی حکمرانی کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ نیز طالبان اس اندرونی دباؤ کو سنبھال کر ایک مربوط حکومت کی شکل اختیار کر پاتے ہیں، یا یہ اختلافات ان کی حکمرانی کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ فی الوقت حقانی گروپ اور قندھاری مرکز کے مابین یہ کھینچا تانی نہ صرف طالبان کی یکجہتی کی عوامی تصویر کو مسخ کر رہی ہے بلکہ یہ افغان عوام کے لیے ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم سیاسی ماحول کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

امریکہ نے بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے ‘بلوچستان لبریشن آرمی’ کو نامزد دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کاروائیوں کی بھرپور حمایت کی ہے

February 6, 2026

سی ڈی اے کے مطابق ڈان نیوز نے تاریخی یادگار کی منتقلی کے حوالے سے غلط رپورٹنگ کی ہے، جس سے عوام کو گمراہ کیا گیا

February 6, 2026

اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ، جس میں 5 افراد جاں بحق اور 4 زخمی

February 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *