طالبان حکومت کی یکجہتی کا دعویٰ ان کے اپنے ہی اندر سے اٹھنے والی صداؤں نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے مبینہ طور پر زیرِ زمین چلنے والے اندرونی اختلافات اب پسِ دیوار نہیں، بلکہ برسرِعام دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔ اس کا تازہ ترین ثبوت وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بھائی ملا انعام الحقانی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے مرکزی قیادت پر براہ راست تنقید کی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک خاندانی اختلاف نہیں، بلکہ طالبان حکومت کے دو اہم مراکز قوت حقانی نیٹ ورک اور قندھار کے مرکز کے مابین گہرے ہوتے خلیج کی واضح علامت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ فقط شخصی اختلاف نہیں بلکہ حکومت چلانے کے طریقے، پالیسیوں پر اختیار، اور مستقبل کے وژن پر گہرے نظریاتی و عملی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ واضح اختلافات طالبان کی بین الاقوامی ساکھ اور داخلی استحکام دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ایک طرف جہاں عالمی برادری طالبان حکومت سے واضح مؤقف اور ذمہ دارانہ حکمرانی کی توقع رکھتی ہے، وہیں اندرونی پھوٹ اور چپقلش ان کے ایک آواز ہونے کے دعوے کو مشکوک بنا رہی ہے۔ داخلی سطح پر یہ کشمکش فیصلہ سازی کے عمل کو سست یا معطل کر سکتی ہے، جس کا اثر معیشت، امن و امان اور انتظامیہ پر پڑے گا۔
جب سراج الدین حقانی کا اپنا بھائی اس قدر سخت لہجے میں بات کرے تو اختلاف اب چھپا نہیں رہتا۔
— Schlangenjäger (@Shadowfox_11) February 6, 2026
طالبان کی اندرونی اقتدار کی کشمکش اب کھلے عام سامنے آ چکی ہے۔@burhan_uddin_0 @WakeelMubariz @AnasHaqqani313 @QaharBalkhi pic.twitter.com/xLoHTPAaic
موجودہ صورتحال نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا ہے کہ وہ روزِ اول سے یہ کہتے آئے ہیں کہ “ہم ایک ہیں، ہمارے مابین کوئی اختلاف نہیں۔” وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے برادر کے بیانات اور اس سے قبل گردش کرنے والی ویڈیوز اس دعوے کے برعکس ایک واضح ثبوت ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ قیادت کے درمیان نہ صرف اختلافات ہیں بلکہ یہ اب تشدد آمیز بیانات اور عملی و عسکری کاروائیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
افغان امور پر ہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ طالبان ایک متحدہ جنگجو گروپ سے ایک متنازعہ حکمران جماعت میں تبدیل ہونے کے چیلنج سے نمٹ رہے ہیں۔ جس اتحاد کے بل پر انہوں نے اقتدار حاصل کیا، قیادت میں وسعت اور حکمرانی کی پیچیدگیوں نے اب اسی کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا طالبان اس اندرونی دباؤ کو سنبھال کر ایک مربوط حکومت کی شکل اختیار کر پاتے ہیں، یا یہ اختلافات ان کی حکمرانی کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ نیز طالبان اس اندرونی دباؤ کو سنبھال کر ایک مربوط حکومت کی شکل اختیار کر پاتے ہیں، یا یہ اختلافات ان کی حکمرانی کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ فی الوقت حقانی گروپ اور قندھاری مرکز کے مابین یہ کھینچا تانی نہ صرف طالبان کی یکجہتی کی عوامی تصویر کو مسخ کر رہی ہے بلکہ یہ افغان عوام کے لیے ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم سیاسی ماحول کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔