نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پہلی جنگِ عظیم کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے: سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
پہلی جنگِ عظیم کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے: سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یہ اقدام دراصل ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے دفاع کی مثال ہے۔

February 5, 2026

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پہلی جنگِ عظیم کے یادگاری مزار سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یادگار کو مسمار نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے تحفظ، وقار اور عوامی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایک زیادہ موزوں مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق یہ اقدام ’’تحفظ کے ذریعے منتقلی‘‘ کے اصول کے تحت کیا جا رہا ہے، نہ کہ مسماری کے تحت۔ یادگار کو کنزرویشن پروٹوکول کے مطابق انتہائی احتیاط سے عارضی طور پر کھولا گیا ہے، جس میں اصل اینٹیں اور تعمیراتی مواد محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ بعد ازاں اسی شکل میں درست انداز سے دوبارہ تعمیر کی جا سکے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مذکورہ یادگار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خستہ حال ہو چکی تھی اور موجودہ مقام پر اس کی مناسب دیکھ بھال اور تحفظ ممکن نہیں تھا۔ منتقلی کے بعد یادگار کو باوقار ماحول میں بہتر سکیورٹی، مستقل دیکھ بھال اور طویل المدتی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

سی ڈی اے نے وضاحت کی کہ یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی نوٹیفائیڈ ہیریٹیج انوینٹری میں شامل نہیں، تاہم اس کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ سے باقاعدہ مشاورت کی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانونی وارث کی رضامندی بھی حاصل کی گئی، جس میں یادگار سے وابستہ شخصیت کے پڑپوتے نے باقاعدہ حلف نامہ اور این او سی فراہم کیا۔

بیان کے مطابق سی ڈی اے کی نگرانی میں یادگار کو شمالی بائی پاس راؤنڈ اباؤٹ، ریہارا گاؤں کے قریب ایک محفوظ اور نمایاں مقام پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر رسائی حاصل ہو اور تاریخی ورثے کو وہ احترام دیا جا سکے جس کا وہ مستحق ہے۔

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اقدام سے تاریخی خراجِ تحسین مکمل طور پر برقرار رہے گا اور پہلی جنگِ عظیم میں سب غلام علی کی بہادری اور ملٹری کراس کے اعزاز کو بدستور خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا رہے گا۔

سی ڈی اے نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یہ اقدام دراصل ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے دفاع کی مثال ہے۔ اتھارٹی نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کریں، کیونکہ بغیر تحقیق کے سنسنی خیز اور گمراہ کن خبریں چلانا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے اور اسے دانستہ غلط معلومات اور فیک نیوز تصور کیا جائے گا۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

نیلامی میں جاز سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا جس نے مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔ یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا

March 10, 2026

افغانستان میں طالبان کی فارسی مخالف مہم اب بین الاقوامی سفارتی سطح تک پہنچ گئی ہے، ماسکو میں سفارت خانے کے بورڈ سے فارسی زبان کو مکمل طور پر حذف کردیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کو دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا چاہیے۔

March 10, 2026

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *