خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

پہلی جنگِ عظیم کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے: سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
پہلی جنگِ عظیم کی یادگار مسمار نہیں کی گئی، محفوظ مقام پر منتقل کی جا رہی ہے: سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یہ اقدام دراصل ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے دفاع کی مثال ہے۔

February 5, 2026

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پہلی جنگِ عظیم کے یادگاری مزار سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یادگار کو مسمار نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے تحفظ، وقار اور عوامی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ایک زیادہ موزوں مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق یہ اقدام ’’تحفظ کے ذریعے منتقلی‘‘ کے اصول کے تحت کیا جا رہا ہے، نہ کہ مسماری کے تحت۔ یادگار کو کنزرویشن پروٹوکول کے مطابق انتہائی احتیاط سے عارضی طور پر کھولا گیا ہے، جس میں اصل اینٹیں اور تعمیراتی مواد محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ بعد ازاں اسی شکل میں درست انداز سے دوبارہ تعمیر کی جا سکے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مذکورہ یادگار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خستہ حال ہو چکی تھی اور موجودہ مقام پر اس کی مناسب دیکھ بھال اور تحفظ ممکن نہیں تھا۔ منتقلی کے بعد یادگار کو باوقار ماحول میں بہتر سکیورٹی، مستقل دیکھ بھال اور طویل المدتی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

سی ڈی اے نے وضاحت کی کہ یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی نوٹیفائیڈ ہیریٹیج انوینٹری میں شامل نہیں، تاہم اس کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ سے باقاعدہ مشاورت کی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانونی وارث کی رضامندی بھی حاصل کی گئی، جس میں یادگار سے وابستہ شخصیت کے پڑپوتے نے باقاعدہ حلف نامہ اور این او سی فراہم کیا۔

بیان کے مطابق سی ڈی اے کی نگرانی میں یادگار کو شمالی بائی پاس راؤنڈ اباؤٹ، ریہارا گاؤں کے قریب ایک محفوظ اور نمایاں مقام پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر رسائی حاصل ہو اور تاریخی ورثے کو وہ احترام دیا جا سکے جس کا وہ مستحق ہے۔

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اقدام سے تاریخی خراجِ تحسین مکمل طور پر برقرار رہے گا اور پہلی جنگِ عظیم میں سب غلام علی کی بہادری اور ملٹری کراس کے اعزاز کو بدستور خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا رہے گا۔

سی ڈی اے نے واضح کیا کہ یادگار کی ’’مسماری‘‘ سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یہ اقدام دراصل ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے دفاع کی مثال ہے۔ اتھارٹی نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کریں، کیونکہ بغیر تحقیق کے سنسنی خیز اور گمراہ کن خبریں چلانا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے اور اسے دانستہ غلط معلومات اور فیک نیوز تصور کیا جائے گا۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *