"> طالبان کی ڈرون اشتعال انگیزی، دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا پاکستان پر حملوں کا دعویٰ مضحکہ خیز، افغانستان دہشت گردی کا اصل مرکز قرار

پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ کی ناکام ڈرون اشتعال انگیزی نے طالبان کی بوکھلاہٹ اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی اور ناکام ڈرون حملہ

طالبان حکومت کی ناکام ڈرون کارروائی نے کابل انتظامیہ کی تکنیکی کمزوری اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کے الزامات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

July 1, 2026

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں روپوش شرپسندوں کے خلاف کی جانے والی حالیہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ طالبان وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان ملا صدیق اللہ نصرت نے پاکستان کے خلاف مبینہ درست نشانے والے حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حقائق کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ابتدائی نوعیت کے ڈرون اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہے اور فضا میں زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔

پاک افغان کشیدگی

پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین پر موجود فتنہ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان حکومت نے عالمی برادری سے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم، سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملے اور کابل کی جانب سے ان عناصر کو فراہم کردہ پناہ گاہیں ان کے بین الاقوامی وعدوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہیں۔

ناکام ڈرون مشن

پاکستان کی ہدفی کارروائیوں نے نہ صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا بلکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے سرپرستوں کو بھی بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ طالبان کے نائب ترجمان ملا صدیق اللہ نصرت درست نشانے والے حملوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے بھیجے گئے ڈرون اتنی دیر بھی فضا میں نہ رہ سکے کہ اپنے ہدف تک پہنچتے، جس سے ان کی تکنیکی کمزوری واضح ہوتی ہے۔ سرحد پار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجنے کی یہ ناکام کوشش دراصل جوابی کارروائی نہیں بلکہ کابل انتظامیہ کی حواس باختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کابل اور قندھار میں مراکز

سکیورٹی ناقدین اور علاقائی ماہرین کے مطابق، طالبان رہنما پاکستانی علاقوں کو شر کا مرکز قرار دے کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کے اصل مراکز کابل اور قندھار میں موجود ہیں، جہاں سے مختلف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی مبینہ نگرانی کی جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بھی ان دستاویزی حقائق کی تصدیق کرتی ہیں، جن میں افغانستان کے اندر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 13ہزار سے زائد جنگجوؤں کی موجودگی کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔

عالمی برادری کے لیے پیغام

ناکام ڈرون کارروائیاں اور کابل کا جھوٹا پروپیگنڈا اس حقیقت سے عالمی برادری کی توجہ نہیں ہٹا سکتا کہ طالبان حکومت فتنہ الخوارج جیسے خطرناک گروہوں کو تحفظ اور سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش اور دوسری جانب دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی ایک ایسا واضح تضاد ہے جسے محض بیانات سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ کابل کو خطے کے امن کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

دیکھیے: بی بی سی شدید تنقید کی زد میں، افغان طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *