افغانستان سے متعلق رپورٹنگ کے تناظر میں بی بی سی پشتو کی ادارتی پالیسی ایک مرتبہ پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ بعض مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ طالبان حکومت کے بیانات، تصاویر اور سرکاری مواد کو نمایاں انداز میں نشر کرتا ہے، جس سے طالبان کے سرکاری بیانیے کو تقویت ملنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آزاد صحافت کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ادارے اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ وہاں میڈیا کو سنسرشپ، نگرانی، دباؤ اور مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث صحافیوں کی آزادانہ رپورٹنگ شدید متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کا مؤقف ہے کہ ایسے دم گھٹتے ماحول میں طالبان حکام کی جانب سے جاری کردہ تصاویر، ویڈیوز اور سرکاری معلومات کو مناسب تناظر یا آزادانہ تصدیق کے بغیر نشر کرنے سے زمینی حقائق کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔
ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کو چاہیے کہ وہ طالبان حکومت کے دعوؤں کے ساتھ یہ وضاحت بھی کرے کہ افغانستان میں آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق کئی مواقع پر ممکن نہیں ہوتی۔
دوسری جانب ناقدین نے دہشت گردی سے متعلق بی بی سی پشتو کی بعض رپورٹس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی شدید اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تنظیموں کے لیے مختلف مواقع پر جنگجو یا عسکریت پسند جیسی نرم اصطلاحات استعمال کی گئیں، جس پر پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے گروہوں کو، جو معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہوں، صرف دہشت گرد ہی قرار دیا جانا چاہیے۔
یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملے کی ذمہ داری کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق اس حملے میں رینجرز اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور ایک افغان شہری کو گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں محتاط اور متوازن زبان اختیار نہ کرے تو اس سے متاثرہ ممالک میں اس کی غیر جانب داری پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
ان کے مطابق صحافتی اصولوں کا تقاضا ہے کہ تمام فریقوں کے مؤقف کے ساتھ آزاد ذرائع سے دستیاب معلومات اور حقائق کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔
میڈیا کے ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ افغانستان جیسے محدود معلومات والے ماحول میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود رپورٹنگ میں سیاق و سباق، شفافیت اور معلومات کے ذرائع کی واضح نشاندہی صحافتی اعتبار سے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل خبردار کرتی رہی ہیں کہ طالبان حکومت کے دور میں صحافیوں کو گرفتاری، دھمکیوں، سنسرشپ اور پیشہ ورانہ پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک سے آنے والی معلومات کو احتیاط اور آزادانہ تصدیق کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔