سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 49 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

تاجکستان میں افغان سفارتخانے میں این آر ایف کے شہید کمانڈر حسیب پنجشیری کی یاد میں قرآن خوانی اور آزادی و انصاف کے عزم کی تجدید کی گئی۔

August 21, 2026

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ مخالفین کی کسی بھی غلط اندازے یا خطرے کا فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

August 21, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل سے ملنے والی سیاسی ہدایات اور احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے صوبے میں گورننس شدید متاثر ہو رہی ہے۔

August 21, 2026

حکومت نے بانیٔ پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کر دی۔

August 21, 2026

او آئی سی نے مقبوضہ بیت المقدس میں 1,234 نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے ٹینڈر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی الحاق اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

August 21, 2026

بی بی سی شدید تنقید کی زد میں، افغان طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام

بی بی سی پشتو کی کوریج پر طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین نے دہشت گردی کی رپورٹنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
بی بی سی پشتو کی کوریج پر طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین نے دہشت گردی کی رپورٹنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔

مبصرین نے بی بی سی پشتو پر افغانستان سے متعلق رپورٹنگ میں طالبان حکام کے مؤقف کو نمایاں کرنے اور دہشت گردی کے لیے نرم اصطلاحات استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

June 30, 2026

افغانستان سے متعلق رپورٹنگ کے تناظر میں بی بی سی پشتو کی ادارتی پالیسی ایک مرتبہ پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ بعض مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ طالبان حکومت کے بیانات، تصاویر اور سرکاری مواد کو نمایاں انداز میں نشر کرتا ہے، جس سے طالبان کے سرکاری بیانیے کو تقویت ملنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آزاد صحافت کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ادارے اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ وہاں میڈیا کو سنسرشپ، نگرانی، دباؤ اور مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث صحافیوں کی آزادانہ رپورٹنگ شدید متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کا مؤقف ہے کہ ایسے دم گھٹتے ماحول میں طالبان حکام کی جانب سے جاری کردہ تصاویر، ویڈیوز اور سرکاری معلومات کو مناسب تناظر یا آزادانہ تصدیق کے بغیر نشر کرنے سے زمینی حقائق کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔

ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کو چاہیے کہ وہ طالبان حکومت کے دعوؤں کے ساتھ یہ وضاحت بھی کرے کہ افغانستان میں آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق کئی مواقع پر ممکن نہیں ہوتی۔

دوسری جانب ناقدین نے دہشت گردی سے متعلق بی بی سی پشتو کی بعض رپورٹس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات پر بھی شدید اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تنظیموں کے لیے مختلف مواقع پر جنگجو یا عسکریت پسند جیسی نرم اصطلاحات استعمال کی گئیں، جس پر پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے گروہوں کو، جو معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہوں، صرف دہشت گرد ہی قرار دیا جانا چاہیے۔

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملے کی ذمہ داری کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق اس حملے میں رینجرز اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور ایک افغان شہری کو گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں محتاط اور متوازن زبان اختیار نہ کرے تو اس سے متاثرہ ممالک میں اس کی غیر جانب داری پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

ان کے مطابق صحافتی اصولوں کا تقاضا ہے کہ تمام فریقوں کے مؤقف کے ساتھ آزاد ذرائع سے دستیاب معلومات اور حقائق کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔

میڈیا کے ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ افغانستان جیسے محدود معلومات والے ماحول میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود رپورٹنگ میں سیاق و سباق، شفافیت اور معلومات کے ذرائع کی واضح نشاندہی صحافتی اعتبار سے ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل خبردار کرتی رہی ہیں کہ طالبان حکومت کے دور میں صحافیوں کو گرفتاری، دھمکیوں، سنسرشپ اور پیشہ ورانہ پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک سے آنے والی معلومات کو احتیاط اور آزادانہ تصدیق کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 49 دہشت گرد ہلاک۔

August 21, 2026

تاجکستان میں افغان سفارتخانے میں این آر ایف کے شہید کمانڈر حسیب پنجشیری کی یاد میں قرآن خوانی اور آزادی و انصاف کے عزم کی تجدید کی گئی۔

August 21, 2026

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ مخالفین کی کسی بھی غلط اندازے یا خطرے کا فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

August 21, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اڈیالہ جیل سے ملنے والی سیاسی ہدایات اور احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے صوبے میں گورننس شدید متاثر ہو رہی ہے۔

August 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *