افغانستان کے شمالی صوبے سرِ پل میں طالبان فورسز کو ایک اور مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ دیگر تین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ صوبہ سرِ پل کے مرکزی شہر میں واقع گنجِ بازار کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے وہاں موجود چار طالبان اہلکاروں پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
تفصیلات
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اچانک ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں قہار نامی ایک طالبان اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کے ساتھ موجود تین دیگر اہلکار گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔
حمله بر نیروهای طالبان در ولایت سرپل؛ یک نفر کشته و سه تن زخمی شدند
— پیام آزادی (@Payam__Azadi) July 28, 2026
منابع محلی گزارش دادهاند که چهار عضو طالبان در منطقه گنجبازار، مرکز ولایت سرپل، هدف یک حمله مسلحانه قرار گرفتهاند.
در نتیجه این حمله، یکی از افراد طالبان به نام «قهار» کشته شده و سه عضو دیگر زخمی شدهاند. pic.twitter.com/UgS2n4onkx
حملے کے فوراً بعد مقامی افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں نے زخمیوں کو قریب ترین طبی مرکز منتقل کیا، جہاں ان کی حالت کے حوالے سے مزید معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
علاقے میں ناکہ بندی
واقعے کے فوری بعد طالبان کی سکیورٹی فورسز نے گنجِ بازار اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی ہے اور مفرور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تاہم، ابھی تک کسی مسلح تنظیم یا مزاحمتی فرنٹ نے اس حملے کی مسئولیت باضابطہ طور پر قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان فورسز پر گوریلا حملوں کی لہر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔