"> افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کے لیے مقامی عمائدین پر دباؤ، گھر گھر جا کر فنڈز کی وصولی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کے لیے مقامی عمائدین پر دباؤ، گھر گھر جا کر فنڈز کی وصولی

آماج نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ‘پاکستان میں جہاد’ کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے
آماج نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے 'پاکستان میں جہاد' کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے

شمالی افغانستان میں طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے لیے گھر گھر چندہ مہم کا انکشاف۔ مقامی آبادی پر مالی تعاون کے لیے دباؤ

April 3, 2026

افغانستان کے معتبر میڈیا نیٹ ورک ‘آماج نیوز’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی مالی پشت پناہی کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اس مہم کو “پاکستان میں ٹی ٹی پی کا جہاد” قرار دے کر فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے یہ مہم صرف مخصوص حلقوں تک محدود تھی، تاہم اب طالبان نے اسے وسعت دیتے ہوئے گھر گھر جا کر چندہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقامی آبادی پر دباؤ

آماج نیوز نے شمالی افغانستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے عام شہریوں اور تاجروں پر مالی تعاون کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی قبائلی عمائدین اور بااثر شخصیات کو خصوصی ٹاسک دیے گئے ہیں کہ وہ اپنی اپنی برادریوں سے رقم جمع کر کے طالبان کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جبری وصولی کی وجہ سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی

آماج نیوز کی اس رپورٹ میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فنڈز جمع کرنے کی اس جارحانہ مہم کا وقت انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والے ہزاروں جنگجوؤں کو گزشتہ 45 روز سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف طالبان اپنی صفوں میں مالی عدم استحکام کا شکار ہیں اور دوسری طرف ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی سرپرستی جاری رکھنے کے لیے اب افغان عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو کہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔

دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *