پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ارومچی میں ہونےو الے سہ فریقی مذاکرات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت گزشتہ روز سامنے آئی ہے ۔ افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کابل میں ایک اجلاس کے دوران ٹی ٹی پی کو وارننگ جاری کی ہے اور اس کے تقریباً 100 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ پاکستان نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا،کیونکہ ماضی میں کئی بار طالبان کے یہ دعوے جھوٹ ثابت ہوئے ہیں، جب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آئے گا پاکستان رد عمل شائد نہیں دے گا۔ دوسری جانب کابل میں ہمارے سورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلا س اور گرفتاریاں دونوں ہوئی ہیں، لیکن یہ تمام کارروائی ٹی ٹی کے خلاف نہیں ہوئی نہ ہی ٹی ٹی پی کو کوئی وارننگ دی گئی ہے، اور نہ ہی ٹی ٹی پی کو وارننگ دینے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔
سورس کے مطابق اجلاس میں ٹی ٹی پی اور ارومچی مذاکرات کا معاملہ زیر بحث ضرور آیا ہے لیکن اس میں شرکاء کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے۔ اس اجلاس میں ٹی ٹی پی خلاف نہیں بلکہ ان چھوٹے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جو نہ تو ٹی ٹی پی کا باقاعدہ حصہ ہیں، نہ گل بہادر گروپ سے وابستہ ہیں، اور نہ ہی کسی منظم ڈھانچے جیسے جی ڈی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ انہی افراد کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور ان گرفتاریوں کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف بڑی کارروائی ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کے اندر اس وقت واضح تقسیم موجود ہے۔ ایک دھڑ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا حامی ہیں۔ دوسری طرف سخت گیر دھڑا ہے جو ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریب سمجھا جاتا ہے اور کسی بڑی پالیسی تبدیلی کی مخالفت کر رہا ہے، یہ دوسرا دھڑا چین میں مذاکرات کے بعد بھی ٹی ٹی پی کو سہولیات دے کر پاکستان میں رہی لانچ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
اس اجلاس میں متشدد دھڑے کا اصرار تھا کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو اسلام آباد اور لاہور تک پھیلا دیا جائے تو پاکستان کو افغان حکومت کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ اس اجلاس میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو ا۔ سورس کے مطابق اجلا س میں ٹی ٹی پی اور جی ڈی آئی کے ساتھ منسلک نہ ہونےو الے آزاد چھوٹے دہشت گرد گروپس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اس فیصلہ کے تحت گرفتاریوں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی قرار دے کر پاکستان اور چین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سورس کا کہنا ہے کہ ایسے چھوٹے، غیر منظم اور غیر رجسٹرڈ مسلح گروہوں کے خلاف خلاف خودٹی ٹی پی بھی شکایات کر چکی ہے، یہ لوگ افغانستان میں چوری چکاری اور دیگر وارداتوں میں بھی شامل ہیں ۔ اس طرح ایک طرف بین الاقوامی سطح پر تعاون کا تاثر دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ٹی ٹی پی کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے بچا جا رہا ہے۔
افغان طالبان ماضی میں بارہا یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔ تاہم موجودہ پیش رفت کو کسی حتمی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کے لیےٹی ٹی پی کے خلاف براہ راست کارروائی کرنا آسان فیصلہ نہیں، کیونکہ دونوں کے درمیان طویل جنگی تعاون اور نظریاتی ہم آہنگی موجود رہی ہے، خاص طور پر اس دور میں جب انہوں نے امریکہ کے خلاف افغانستان میں جنگ لڑی۔اسی لیے موجودہ اقدامات زیادہ تر نظم و ضبط قائم کرنے اور معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش لگتے ہیں، نہ کہ کسی فیصلہ کن کارروائی کا آغاز۔