افغانستان کے صوبہ بلخ میں طالبان گورنر کے ترجمان عطاء اللہ زید نے امریکی محکمہ خارجہ کے حالیہ اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے افغانستان کو “ناجائز حراست کی حمایت کرنے والے ممالک” کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے نے کابل اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ کو مزید ہوا دے دی ہے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عطاء اللہ زید نے واضح کیا کہ اگر امریکہ دوبارہ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو طالبان اس کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
عطاء اللہ زید نے اپنے بیان میں امریکہ کو ماضی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اسے ایک بار پہلے بھی افغانستان میں بدترین ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں وہ یہاں گھٹنوں کے بل آنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کسی قسم کی مہم جوئی کی یا افغان معاملات میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت، عبرتناک اور دندان شکن جواب دیا جائے گا جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکے گا۔
A spokesperson for the Taliban governor in Balkh has threatened the United States following a recent move by the U.S. State Department.
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) March 10, 2026
Ataullah Zaid, spokesperson for the Taliban governor in Balkh, reacting to Washington’s decision to place Afghanistan on the list of “countries… pic.twitter.com/zh96KiLqBf
ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان کے پاس اس وقت بڑی تعداد میں وہ جدید امریکی ہتھیار اور عسکری ساز و سامان موجود ہے جو انخلا کے وقت یا لڑائی کے دوران قبضے میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ امریکہ کو انہی کے تیار کردہ ہتھیاروں سے نشانہ بنائیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ طالبان نے خالی ہاتھوں اپنے پڑوسیوں اور دشمنوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ چھینا ہے، جسے بوقت ضرورت امریکی مفادات کے خلاف مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق طالبان کے ایک اہم عہدیدار کی جانب سے اس نوعیت کا اشتعال انگیز بیان ظاہر کرتا ہے کہ انسانی حقوق، قیدیوں کی رہائی اور سفارتی تسلیم و رضا جیسے معاملات پر فریقین کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے بیانات خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور مستقبل میں کسی نئے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔