افغان مزاحمتی گروپ نے کابل میں طالبان کے سینئر انٹیلی جنس عہدیدار عبداللہ غزنوی کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
مزاحمتی گروپ کے مطابق عبداللہ غزنوی طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق وثیق کے انتہائی قریبی ساتھی اور طالبان کے بااثر قندھاری دھڑے کا اہم حصہ تھے۔ اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ مزاحمتی فورسز کابل کے سب سے محفوظ علاقوں میں بھی طالبان کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس سے قبل طالبان حکومت کے سخت کنٹرول کی وجہ سے عوام اپنی رائے اور اختلاف کا اظہار کرنے سے خوفزدہ تھی۔ تاہم اب صورتِ حال یکسر تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں عام شہروں سے بڑھ کر طالبان انتظامیہ کے اہم ترین عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کا سب سے محفوظ اور حساس ترین ادارہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی کو سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان میں اب انٹیلی جنس کے اعلیٰ ذمہ داران کا محفوظ نہ رہنا اور دارالحکومت کے اندر ایسے حملے ہونا طالبان کی سکیورٹی صلاحیتوں اور کابل پر گرفت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس واقعے سے طالبان اداروں اور عہدیداروں پر عوامی غصے اور مزاحمت کی پھیلتی ہوئی آگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ پیشرفت بتاتی ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت میں مسلسل شدت آ رہی ہے اور یہ عمل آنے والے دنوں میں خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
دیکھیے: بدخشان میں طالبان مخالف قوتوں کی پیش قدمی، اہم علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ