افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار اور دھڑے بندیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ‘افغان مجلسِ شوریٰ’ موجودہ سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور قیادت کی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں میں پالیسی سازی اور انتظامی امور پر بڑھتے ہوئے اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب سپریم کمانڈر کی تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ بڑی تبدیلی کے پیشِ نظر نئے سپریم کمانڈر کے لیے تین اہم ترین رہنماؤں کے نام گردش کر رہے ہیں، جن میں نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیرِ دفاع ملا یعقوب شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دور میں بعض سخت گیر فیصلوں نے تنظیم کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ نئے امیر کے لیے زیرِ غور ناموں میں ملا یعقوب (طالبان کے بانی ملا عمر کے صاحبزادے) اور سراج الدین حقانی (حقانی نیٹ ورک کے سربراہ) کے پاس مضبوط عسکری قوت ہے، جبکہ ملا عبدالغنی برادر کو سیاسی اور سفارتی حلقوں میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں میں بڑھتی ہوئی یہ رسہ کشی نہ صرف اندرونی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ افغانستان کے مستقبل اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر قیادت کی یہ تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی۔
تاہم تاحال طالبان کے سرکاری ترجمان یا کابل حکومت کی جانب سے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے
دیکھیے: طالبان حکومت کے خلاف ”افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ” کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی