اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاس میں افغانستان کے قائم مقام مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ان کے مبینہ گٹھ جوڑ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نصیر احمد فائق نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے افغانستان میں عالمی دہشت گرد گروپوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔
افغان مندوب کا کہنا تھا کہ اقتدار میں واپسی کے تقریباً پانچ سال بعد بھی طالبان کی سخت گیر پالیسیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ افغانستان اس وقت طالبان کے جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں اور بالخصوص خواتین و لڑکیوں کو بنیادی آزادیوں سے محروم رکھنے کے باعث شدید سماجی، اقتصادی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ نصیر احمد فائق کے مطابق موجودہ افغان انتظامیہ کی ناکام حکمت عملی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
سیاسی ماہرین نصیر احمد فائق کے اس بیان کو عالمی سطح پر پاکستان کے اس مؤقف کی توثیق قرار دے رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور انہیں حاصل پشت پناہی خطے کے امن کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں اور عالمی تنہائی کی وجہ سے افغانستان کا بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جو عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔