طالبان رجیم کی ایک اور دھوکہ دہی بے نقاب ہو گئی ہے، طالبان کے خوف سے فرار ہونے والے مال دار لوگوں کو بہلا پھسلا کر ملک لایا جاتا ہے اور ان کی جائیداد چھین لی جاتی ہے۔ اسی سلسلے کی تازہ واردات میں ملا ہیبت اللہ کے داماد اور ہائر ایجوکیشن کے وزیر ملا ندیم نے آریانہ یونیورسٹی اور آریانہ دانشمل ہسپتال چھین لیے ہیں۔ آریانہ گروپ کے سربراہ عبدالحق دانشمل نے بتایا ہے کہ ملا ندا محمد ندیم نے آریانہ پرائیویٹ یونیورسٹی، اس کی تمام برانچز اور آریانہ دانشمل ہسپتال ایک من گھڑت سازش کے تحت ان سے چھین لیے ہیں اور مولوی سمیع اللہ سعید نامی شخص کو اس تمام کاروبار کا منیجر مقرر کر دیا ہے۔
مولوی سمیع اللہ سعید نے گروپ کا کنٹرول سنبھالتے ہی تمام اثاثے غیر قانونی طور پر ہڑپ کر لیے اور ملا ندا محمد ندیم کے ساتھ مل کر ان پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا کروڑوں افغانی کا سرمایہ لوٹ لیا گیا۔ مجھ سے یونیورسٹی چھین لی گئی، اور مجھے میرے جائز حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ عبدالحق دانشمل کو طالبان کے رابطہ کمیشن کے ذریعے ملک واپس لایا گیا تھا۔ واپسی پر ان پر دباؤ ڈال کر ایک جعلی مقدمے میں ان کے اثاثے چھین کر ملا ندیم کے حوالے کر دیے گئے۔