"> سرمایہ کاروں کی جائیدادوں پر قبضے اور سکیورٹی فورسز پر حملے؛ افغانستان میں نئی لہر کا آغاز - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سرمایہ کاروں کی جائیدادوں پر قبضے اور سکیورٹی فورسز پر حملے؛ افغانستان میں نئی لہر کا آغاز

افغانستان میں طالبان قیادت کی جانب سے نجی اثاثوں پر قبضے اور جبری وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب کابل میں ‘افغانستان لبریشن فرنٹ’ کے حملے میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں
افغانستان میں طالبان حکومت پر نجی جائیدادوں پر قبضے کے الزامات شدت اختیار کر گئے، آریانہ یونیورسٹی اور دانشمل ہسپتال بھی مبینہ طور پر چھین لیے گئے

طالبان کے وزیر ہائر ایجوکیشن پر آریانہ یونیورسٹی اور ہسپتال پر قبضے کا الزام۔ کابل میں مزاحمتی گروپ کے حملے میں 3 طالبان ہلاک۔ افغانستان میں اندرونی خلفشار اور بدامنی میں اضافہ

April 2, 2026

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے ملک چھوڑ کر جانے والے مالدار افغان شہریوں کو واپس لانے کی مہم کے پیچھے مبینہ دھوکہ دہی اور لوٹ مار کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں طالبان کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن، ملا ندا محمد ندیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ‘آریانہ پرائیویٹ یونیورسٹی’ اور ‘آریانہ دانشمل ہسپتال’ پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا ہے۔ آریانہ گروپ کے سربراہ عبدالحق دانشمل، جنہیں طالبان کے رابطہ کمیشن کے ذریعے ملک واپس لایا گیا تھا، نے انکشاف کیا کہ واپسی کے بعد ان پر دباؤ ڈال کر ایک جعلی مقدمے میں الجھایا گیا اور ان کے کروڑوں افغانی مالیت کے اثاثے چھین کر ملا ندیم کے حوالے کر دیے گئے۔

اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی

متاثرہ سرمایہ کار عبدالحق دانشمل کے مطابق ملا ندا محمد ندیم نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مولوی سمیع اللہ سعید کو ان کے تمام کاروبار کا منیجر مقرر کر دیا ہے، جس نے چارج سنبھالتے ہی گروپ کے تمام اثاثے ہڑپ کر لیے۔ دانشمل کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کر کے یونیورسٹی کا سرمایہ لوٹ لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے ان افغان شہریوں کا اعتماد مزید مجروح ہوا ہے جو طالبان کے تحفظ کے وعدوں پر یقین کر کے وطن واپسی کا ارادہ رکھتے تھے۔

کابل میں مسلح کارروائی

ملک کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے درمیان ‘افغانستان لبریشن فرنٹ’ نامی نئی عسکریت پسند تنظیم نے کابل میں طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کابل کے گیارہویں ضلع میں واقع شمالی سرائے کے علاقے میں بدھ کی رات اے ایل ایف کے جنگجوؤں نے طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی نے طالبان کے سیکیورٹی سے متعلق دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جبکہ دارالحکومت میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *