افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے ملک چھوڑ کر جانے والے مالدار افغان شہریوں کو واپس لانے کی مہم کے پیچھے مبینہ دھوکہ دہی اور لوٹ مار کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں طالبان کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن، ملا ندا محمد ندیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ‘آریانہ پرائیویٹ یونیورسٹی’ اور ‘آریانہ دانشمل ہسپتال’ پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا ہے۔ آریانہ گروپ کے سربراہ عبدالحق دانشمل، جنہیں طالبان کے رابطہ کمیشن کے ذریعے ملک واپس لایا گیا تھا، نے انکشاف کیا کہ واپسی کے بعد ان پر دباؤ ڈال کر ایک جعلی مقدمے میں الجھایا گیا اور ان کے کروڑوں افغانی مالیت کے اثاثے چھین کر ملا ندیم کے حوالے کر دیے گئے۔
اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی
متاثرہ سرمایہ کار عبدالحق دانشمل کے مطابق ملا ندا محمد ندیم نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مولوی سمیع اللہ سعید کو ان کے تمام کاروبار کا منیجر مقرر کر دیا ہے، جس نے چارج سنبھالتے ہی گروپ کے تمام اثاثے ہڑپ کر لیے۔ دانشمل کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کر کے یونیورسٹی کا سرمایہ لوٹ لیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے ان افغان شہریوں کا اعتماد مزید مجروح ہوا ہے جو طالبان کے تحفظ کے وعدوں پر یقین کر کے وطن واپسی کا ارادہ رکھتے تھے۔
کابل میں مسلح کارروائی
ملک کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے درمیان ‘افغانستان لبریشن فرنٹ’ نامی نئی عسکریت پسند تنظیم نے کابل میں طالبان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کابل کے گیارہویں ضلع میں واقع شمالی سرائے کے علاقے میں بدھ کی رات اے ایل ایف کے جنگجوؤں نے طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی نے طالبان کے سیکیورٹی سے متعلق دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جبکہ دارالحکومت میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔