طالبان حکومت کے ایک خفیہ مراسلے نے اہم انکشافات کیے ہیں۔ اس خفیہ مراسلے نے مزاحمت کاروں کو سرحد پار سے آنے والے جنگجو قرار دینے کے کابل کے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔
طالبان وزارت دفاع کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹریٹجک پبلیکیشنز اینڈ انفارمیشن نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیا ہے۔ حکام نے محاذ پر تعینات یونٹس سے متنازع تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت پر فوری جواب طلب کیا ہے۔

خفیہ مراسلے میں محاذ پر موجود اہلکاروں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ خط کے مطابق اہلکاروں نے ایسے نہتے شہریوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن کے لباس عام شہریوں جیسے تھے۔
یہ افراد ویڈیو میں افغانستان کے مختلف شہروں کے پتے بتا رہے تھے۔ اس کے باوجود طالبان مشینری انہیں بیرونی حملہ آور اور داعش خراسان کے جنگجو بنا کر پیش کرتی رہی۔
کابل کی پروپیگنڈا مشینری مسلسل یہ بیانیہ بنا رہی تھی کہ بیرونی عناصر نے سرحد پار سے آ کر طالبان ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے متعلقہ ویڈیوز بھی عجلت میں سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں۔
مبصرین نے ان ویڈیوز اور طالبان کے سرکاری دعوؤں میں موجود واضح تضادات کو فوری طور پر بے نقاب کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سامنے آنے والے خفیہ مراسلے اور شواہد نے خود کابل کے بیانیے کو باطل ثابت کر دیا ہے۔
دیکھیے: سفارت کاری سے دفاع تک، افغان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا فیصلہ کن ردعمل