افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے برسوں کی مسلسل سفارتی کاوشوں، متعدد ثالثیوں اور بار بار کے مطالبات کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر پاکستان نے بالآخر اپنے دفاع کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ مسلسل سرحد پار حملوں اور سرحد پار قائم دہشت گرد انفراسٹرکچر کے باعث پاکستان شناخت شدہ خطرات کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہوا ہے۔
کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد دنیا بھر کے سفارت خانے بند ہوئے، مگر پاکستان نے اپنے سفارتی تعلقات برقرار رکھے اور انخلا کے عمل میں بھرپور تعاون کیا۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر افغانستان کے 9 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کی پرزور وکالت بھی کی۔ تاہم امن اور استحکام کی توقعات کے برعکس افغان سرزمین کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔
پاکستان نے مذہبی، قبائلی اور سرکاری سطح پر تمام پرامن راستے آزمائے۔ جولائی 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی سربراہی میں 8 رکنی علمائے کرام اور 17 رکنی قبائلی جرگے نے کابل کا دورہ کیا۔ بعد ازاں وزیر دفاع خواجہ آصف، ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی افغان قیادت سے براہِ راست مذاکرات کیے۔ 2025 کے اختتام تک پاکستان نے 836 احتجاجی مراسلے، 13 ڈیمارش، 225 فلیگ میٹنگز اور درجنوں اعلیٰ سطحی دورے کیے، مگر طالبان انتظامیہ نے شناخت شدہ 5 درجن سے زائد دہشت گرد کیمپوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔
دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2021 میں 89 حملے ریکارڈ ہوئے جو بڑھتے ہوئے 2025 میں 699 تک پہنچ گئے، جن میں 1,378 پاکستانی شہید اور 2,672 زخمی ہوئے۔ سال 2026 میں اب تک 1,327 افراد شہید اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔ سرحد پار سے دراندازی کرنے والے گروہوں میں 70 فیصد تک افغان باشندے شامل ہیں، جن میں سے 260 شناخت شدہ افغان دہشت گردوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔
ستمبر 2026 میں کوہاٹ پولیس کمپاؤنڈ اور ہنگو میں خونریز حملوں کے بعد پاکستان کا صبر جواب دے گیا۔ 21 ستمبر کو پاکستان نے انٹیلی جنس بنیادوں پر افغانستان کے اندر 3 دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے ڈرونز اور شیلنگ کے بعد 24 ستمبر کو پاکستان نے ڈرون لانچ کرنے والے 10 ٹھکانوں کو متناسب انداز میں نشانہ بنایا۔
پاکستان کا بنیادی اور واضح مؤقف یہی ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے خلاف دہشت گردی کے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ جب تمام تر سفارتی یقین دہانیاں ناکام ہو گئیں تو پاکستان نے ریاستی تحفظ کی خاطر دہشت گردی کے اصل مراکز کو نشانہ بنانے کے حق کو عملی جامہ پہنایا ہے۔
دیکھیے: چمن سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 40 سے 45 دہشت گرد ہلاک