افغانستان کے لیے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور ڈان براؤن نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کی موجودہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کو امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات میں ‘سودے بازی کے مہرے’ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
امریکی سفارت کار نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کابل انتظامیہ انسانی جانوں کو سیاسی مفادات اور سفارتی مراعات حاصل کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جو کہ بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان کو اس قسم کے ‘قابلِ مذمت حربوں’ پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
واضح رہے کہ امارتِ اسلامیہ کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل یا تردیدی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ کابل اور واشنگٹن کے درمیان قیدیوں کی رہائی، انسانی حقوق اور باقاعدہ سفارتی تعلقات کی بحالی کا معاملہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ایک حساس تنازع سمجھا جاتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں میں پراکسی جنگ کی تیاریاں