پاکستان ایک بار پھر اُس آزمائش سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کو مذہبی لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے عناصر جب پاکستان پر حملے کرتے ہیں، خودکش بمبار سکیورٹی قافلوں کو نشانہ بناتے ہیں اور معصوم شہریوں کو قتل کرتے ہیں تو یہ کسی “جنگی کارروائی” کا حصہ نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ جو مراکز مسجد یا مدرسہ کے نام پر استعمال ہو رہے ہوں لیکن اندر اسلحہ، بارود اور ٹریننگ ہو رہی ہو، وہ عبادت گاہ نہیں بلکہ فتنہ گاہ ہیں۔ قرآن واضح حکم دیتا ہے: “وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا” (البقرہ 190) — جو تم سے لڑیں تم بھی ان سے لڑو، مگر زیادتی نہ کرو۔ پاکستان کا اقدام جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہے، اور دفاع ہر خودمختار ریاست کا مسلمہ حق ہے۔
خوارج کی تاریخ اسلام میں نئی نہیں۔ وہ لوگ جو دین کے نام پر مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائیں، تکفیر کا بازار گرم کریں اور خونِ ناحق کو جائز سمجھیں، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ” (صحیح بخاری) — وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ کیا آج کا منظرنامہ اس کی جھلک نہیں دکھاتا؟ ہزاروں پاکستانی شہری، فوجی، بچے اور بزرگ دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ 2014 کے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد آج بھی قوم کے دل میں تازہ ہے۔ جو گروہ اس تاریخ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو، اسے “فائٹر” یا “مسلح کارکن” کہنا حقائق سے انحراف ہے۔
یہ بھی ایک تسلیم شدہ حربہ ہے کہ دہشت گرد عناصر شہری آبادی، خواتین یا مذہبی مقامات کی آڑ لیتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ شریعت کی صریح خلاف ورزی بھی یے۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے آداب بیان کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت دی (سنن ابی داؤد)۔ مگر جو خود شہریوں کو ڈھال بنائے، وہی دراصل انہیں خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ مظلومیت کا بیانیہ گھڑ کر اصل ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے۔
پاکستان نے دو دہائیوں میں اسی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں کسی وقتی غصے کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل سرحد پار حملوں کا ردعمل ہیں۔ اگر پڑوسی سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے تو تعاون ہی واحد راستہ ہے، نہ کہ انکار یا پردہ پوشی۔ افغان حکام کو بھی اس جنگ میں واضح مؤقف اپنانا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور امتِ مسلمہ کے لیے خطرہ ہے۔
اسلام امن، عدل اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے۔ قرآن کہتا ہے: “مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا” (المائدہ 32) — جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ جو لوگ بارود اور خون کو اپنی سیاست کا ذریعہ بنائیں، وہ نہ دین کے نمائندہ ہیں نہ کسی مقدس مقصد کے۔ پاکستان کا دفاعی اقدام نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے بلکہ شرعی تقاضا بھی۔ اس معرکے میں ابہام کی گنجائش نہیں: دہشت گرد، دہشت گرد ہی ہوتے ہیں۔ اگر زبان اس فرق کو دھندلا دے تو یہ صرف خبر نہیں بدلتی، سچ کا چہرہ بھی مسخ ہو جاتا ہے۔