افغانستان اور ترکمنستان کے وزرائے خارجہ کے مابین ویڈیو کانفرنس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، علاقائی تعاون ، تاپی منصوبے سمیت متعدد منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل کے مطابق وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور ترکمنستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ راشد مردوف کے مابین ہونے والی گفتگو میں دونوں ممالک کے تعلقات کو عملی اور نتیجہ خیز سمت میں لے جانے کا عزم کیا گیا۔
توانائی کے شعبے
گفتگو میں سب سے اہم پیشرفت تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے رہی۔ وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہرات کی سمت منصوبے پر عملی کام کے آغاز کا اعلان کیا، جو اس طویل المدت منصوبے میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح ریلوے اور دیگر رابطہ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان افغانستان کو ایک اہم معاشی پل بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ترکمنستان کا مؤقف
ترکمنستان کے نائب وزیر اعظم راشد مردوف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترکمنستان موجودہ حالات کے باوجود افغانستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں پر ہم آہنگی، اعلیٰ سطحی دوروں کے تسلسل اور طے شدہ پروگراموں پر عملدرآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
افغانستان کے معاشی مفادات
افغان وفد نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہ تعاون افغانستان کو علاقائی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ رابطہ کاری نہ صرف افغانستان کی معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ پورے خطے میں توانائی اور تجارت کے بہاؤ میں بھی انقلاب لائے گی۔