اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سینیئر صحافی حسن خان نے اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ واقعے کے محرکات سرحد پار افغانستان سے جڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ محض ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ منظم نیٹ ورک سرگرم ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف دشمن ممالک کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔
حسن خان نے اپنی خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ اسرائیل اور بھارت مسلسل پاکستان کے استحکام، بالخصوص بلوچستان کی صورتحال پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کو ایک محفوظ لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ صحافی کا کہنا تھا کہ بیرونی ایماء پر کام کرنے والے یہ عناصر ملک کے اہم شہروں اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
سکیورٹی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے حسن خان نے واضح کیا کہ اب ریاست کی پالیسی میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گرد قیادت کے لیے پاکستانی مٹی پر اب کسی قسم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور انہیں ہر صورت ان کے عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تخریب کار عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے تاکہ ملک بھر سے دہشت گردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت