خیبر کے علاقے طورخم بارڈر پر پاک افغان کشیدگی کے دوران سرحد کے قریب پڑی لاش کو اٹھانے کیلئے دونوں ممالک کے قومی مشران پر مشتمل جرگہ وفد سرحدی مقام پر پہنچا۔
ذرائع کے مطابق وفد لاش کو تحویل میں لے کر اس کی شناخت کرنا چاہتا تھا تاکہ جس ملک کے شہری کی لاش ہو اسے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق طورخم بارڈر پر شام 5 بجکر 30 منٹ تک سیز فائر کیا گیا تاکہ جرگہ مشران معاملے پر بات چیت کر سکیں۔
پاکستان کی جانب سے جرگہ وفد میں مفتی محمد اعجاز شینواری، ملک تاج الدین شینواری، چیئرمین شاہ خالد، مراد حسین، سعید خان، قاری نظیم گل، مولانا عاقب اور قاری جہاد شاہ سمیت دیگر عمائدین شامل تھے۔
افغانستان کی جانب سے ملک حاجی مستیار شینواری، ملک مولا خان شینواری، رئیس گل مجید شینواری، ملک والی خان شینواری، ملک گل رحمان شینواری، قاری بصیر شینواری، انجینئر متبر خان شینواری، مفتی اسداللہ شینواری، ملک دریا خان مومند، ملک شازر مومند اور ملک ہلمند مومند پر مشتمل وفد شریک ہوا۔
ذرائع کے مطابق زیرو پوائنٹ پر پڑی لاش کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی جو مبینہ طور پر ایک مزدور تھا اور ذہنی طور پر کمزور بتایا جاتا ہے۔
لنڈی کوتل کے جرگہ ارکان کے مطابق افغان وفد نے کہا کہ انہیں لاش اٹھانے کے لیے طالبان حکام سے اجازت لینا ہوگی، جس کے بعد پاکستانی جرگہ واپس لوٹ آیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق جرگہ کے واپس آنے کے بعد طورخم بارڈر پر ایک بار پھر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہو گئی جبکہ لاش تاحال سرحدی مقام پر موجود ہے۔
دیکھئیے:ڈی آئی خان میں سکیورٹی اداروں کا مشترکہ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک، 4 گرفتار