افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں افغانستان میں اتحاد، امن اور معاشی استحکام کے دعوے کیے ہیں، تاہم سکیورٹی، اقتصادی اور حکومتی صورتحال اس دعوے کے برعکس ہے

January 31, 2026

افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر CSTO تاجکستان کی سرحدی فورسز کو جدید ترین فوجی سازوسامان فراہم کرے گا، جس کا ہدف عسکریت پسندی اور منشیات اسمگلنگ کو روکنا ہے

January 31, 2026

سکیورٹی فورسز کی شاندار کارکردگی: بلوچستان میں ’’ہیروف 2.0‘‘ کے نام پر دہشت گردوں کے بیک وقت حملے تاریخی ناکامی سے دوچار، صورتحال مکمل قابو میں

January 31, 2026

سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟

January 31, 2026

سیکیورٹی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بشمول وادیٔ تیراہ، میں جاری کارروائیاں بلا امتیاز نہیں بلکہ مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں، جن کا ہدف مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ شدت پسند نیٹ ورکس سرحد پار حملوں اور مسلسل عدم تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔

January 31, 2026

پارٹی کے کئی رہنما اس لیک پر خاموش ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آڈیو نے نہ صرف پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی فیصلوں اور اندرونی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

January 30, 2026

بیانیہ کی جنگ: الجزیرہ کس طرح پاکستان کی کہانی تشکیل دے رہا ہے

الجزیرہ کا بدلتا ہوا پاکستان بیانیہ خلیجی سیاست میں تبدیلی، افغان موقف کی عکاسی اور خطے میں میڈیا اثر و رسوخ کی جنگوں کو ظاہر کرتا ہے۔
بیانیہ کی جنگ: الجزیرہ کس طرح پاکستان کی کہانی تشکیل دے رہا ہے

الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کا لوگو دوحہ، قطر میں اس کے ہیڈکوارٹر کی عمارت پر نظر آ رہا ہے۔ [تصویر: شوکت شفیع/الجزیرہ]

November 16, 2025

وقت کے ساتھ ساتھ تنازعات کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ جدید جنگیں اب صرف روایتی محاذوں، جاسوسی یا پوشیدہ کارروائیوں تک محدود نہیں رہیں جو عوام میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔ آج محاذ اکثر بیانیہ ہوتا ہے، جو طاقتور میڈیا کے نظام کے ذریعے بنایا، اضافہ اور پھیلایا جاتا ہے۔ ریاستیں اب ذہن تشکیل دیتی ہیں تاثرات بناتی ہیں، اور معلومات کو اتنی ہی حکمت عملی کے ساتھ استعمال کرتی ہیں جتنی پہلے فوج استعمال کی جاتی تھی۔ اس سیاق میں، میڈیا پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل عوامی رائے اور عالمی بیانیوں پر اثر ڈالنے کا ایک اہم آلہ بن چکا ہے۔ تاہم جیسا کہ ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے میڈیا استعمال کرتے ہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی ذرائع بعض اوقات غیر ارادی یا منتخب بیانیے پیش کرتے ہیں، جو شراکت دار ممالک کی تصویر یا اسٹریٹجک مفادات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ایک قابلِ ذکر مثال پاک افغان تعلقات کی رپورٹنگ میں الجزیرہ کی کوریج ہے جو مسلم دنیا کے سب سے مؤثر میڈیا نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔ جبکہ پاکستان اور قطر کے تعلقات گرمجوش اور تعاون پر مبنی ہیں اور اسلام آباد دوحہ کے سفارتی کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں الجزیرہ کی رپورٹنگ کے انداز نے تجزیہ کاروں، سوشل میڈیا صارفین اور خطے کے جغرافیائی سیاست کے نگرانوں کے درمیان بحث کو جنم دیا ہے۔

دوحہ کی ثالثی اور تاثرات میں تبدیلی


اکتوبر میں مسلح جھڑپوں کے بعد قطر نے پاک افغان کشیدگی کے حل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستانی حکام نے دوحہ کی مثبت ثالثی کی واضح طور پر تعریف کرتے ہوئے قطر اور ترکی کو اہم دوست قرار دیا، جنکی ثالثی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل رہیں حالانکہ افغانستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری رہیں۔

اس دوران سوشل میڈیا صارفین نے الجزیرہ کے حالیہ پاکستان افغان مسائل پر تبادلہ خیال کی نشاندہی کی ہے بشمول ایک مقبول عربی پروگرام “سمجھنے کی کوشش: افغان اور پاکستان کیوں آمنے سامنے ہیں؟”۔ اس پینل میں سلطان برکات، تیسیر العونی، اور محجوب الزوائری شامل تھے۔ پینل نے خطے کے مسائل کو واضح انداز میں وضاحت کی لیکن کچھ ناظرین نے اسے افغان موقف کے حق میں جھکاؤ کے طور پر تنقید کی ہے۔

دوحہ بیان کی ترمیم اور افغان ردعمل

دوحہ مذاکرات کے بعد قطر کے وزارتِ خارجہ نے ابتدا میں ایک بیان جاری کیا جس میں امید ظاہر کی گئی کہ جنگ بندی “دو بھائی ملکوں کی سرحد پر تناؤ کو کم کرے گی”۔ تقریباً 18 گھنٹے بعد بیان سے سرحد کا ذکر حذف کر دیا گیا۔

تازہ ترین بیان میں کہا گیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اہم قدم دونوں بھائی ملکوں کے درمیان تناؤ ختم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مضبوط بنیاد قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

افغان سیاسی حلقوں نے اس ترمیم کو سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا کیونکہ یہ پاک۔ افغان سرحد کے حساس معاملے سے متعلق تھا، جسے طالبان اور سابق افغان حکومتوں نے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

طالبان کی تقریر اور پاکستان کی سفارتی پالیسی
دوحہ کے بعد طالبان کا رویہ سخت بیان بازی پر مبنی رہا۔ جبکہ پاکستان نے تحمل سے کام لیا اور تناؤ کو بڑھانے سے گریز کیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے تنازع کا شکار ہو سکتا ہے جس سے وہ بچنا چاہتا ہے۔

متنازعہ انٹرویو اور بیانیہ کی تشکیل

ایک اور تنازع الجزیرہ کے انٹرویو سے پیدا ہوا جس میں صحافی سمیع الحاج نے اپنی 15 سالہ قید کی کہانی سنائی اور بتایا کہ کچھ عرب افراد پاکستان میں 500 ڈالر میں فروخت کیے گئے۔ یہ تفصیل انٹرویو کا مرکزی حصہ نہیں تھی لیکن اس نے ہیڈ لائن میں جگہ بنائی اور سوالات پیدا کیے کہ کس طرح مخصوص بیانیے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

پاکستان پر الجزیرہ کی رپورٹنگ: ساختی، جغرافیائی اور نظریاتی جہتیں


1996 میں قائم ہونے کے بعد الجزیرہ نے مسلم دنیا میں آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا بالخصوص فلسطین جیسے متنازع علاقوں میں۔ قطر کی ریاستی مالی مدد اور آزادی کے علامتی منشور نے اس کے سیاسی اثرات کے بارے میں سوالات پیدا کیے۔

ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد،ل تجزیہ کاروں نے محسوس کیا کہ الجزیرہ کی رپورٹنگ میں پاکستان کے مسائل پر زیادہ تنقیدی لہجہ آیا جس میں پاکستان کی داخلی اور خطے میں سیکورٹی پالیسی کو اکثر عدم استحکام سے جوڑا گیا۔

پاک۔ افغان تعلقات کی 2023 تا 2025 کی رپورٹنگ میں بار بار پینلوں اور رپورٹس میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر زور، طالبان کے بیانات کی تائید، جھڑپوں کی اصطلاح استعمال کرنا اور پاکستان کے بیانات و طالبان دعوؤں کا متوازی پیش کرنا شامل رہا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ طالبان کے بیانیے کو معمول پر لاتا ہے اور ٹی ٹی پی کے مسئلے کو کم ظاہر کرتا ہے۔

بیانیہ کا محاذ: حکمت عملی کی ضرورت


الجزیرہ مسلم دنیا میں اب بھی ایک اہم عالمی میڈیائی قوت ہے جسکی رپورٹنگ بعض اوقات مغربی میڈیا میں نظر انداز ہونے والے مسائل کو نمایاں کرتی ہے۔ تاہم اس کی رپورٹنگ، خصوصاً پاکستان پر محتاط اور سیاق و سباق کے مطابق پڑھی جانی چاہیے۔

پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ مقابلاتی نہیں بلکہ حکمت عملی پر مبنی ہو: عربی زبان میں مضبوط میڈیا موجودگی قائم کرے، عوامی سفارت کاری کو فروغ دے اور بیرونی بیانیوں کے پاکستان کی کہانی پر اثر انداز ہونے سے پہلے اپنی سکیورٹی اور موقف کو واضح کرے۔

آج کی معلوماتی دنیا میں بیانیہ بہی سب کچھ ہے اور یہ یقینی بنانا کہ پاکستان کی کہانی متوازن انداز میں بیان ہو، زمینی حقائق جتنی ہی اہمیت رکھتی ہے

دیکھیں: نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب زوردار دھماکہ؛ آٹھ افراد ہلاک، متعدد زخمی

متعلقہ مضامین

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں افغانستان میں اتحاد، امن اور معاشی استحکام کے دعوے کیے ہیں، تاہم سکیورٹی، اقتصادی اور حکومتی صورتحال اس دعوے کے برعکس ہے

January 31, 2026

افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر CSTO تاجکستان کی سرحدی فورسز کو جدید ترین فوجی سازوسامان فراہم کرے گا، جس کا ہدف عسکریت پسندی اور منشیات اسمگلنگ کو روکنا ہے

January 31, 2026

سکیورٹی فورسز کی شاندار کارکردگی: بلوچستان میں ’’ہیروف 2.0‘‘ کے نام پر دہشت گردوں کے بیک وقت حملے تاریخی ناکامی سے دوچار، صورتحال مکمل قابو میں

January 31, 2026

سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟

January 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *