تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی امیر علامہ حافظ سعد حسین رضوی خفیہ ایجنسیوں کی غیر آئینی، غیر قانونی، ماورائے عدالت، غیر اعلانیہ اور بلاجواز جبری تحویل میں ہیں۔
تاہم، حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعد رضوی کسی بھی ریاستی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی مرضی سے روپوش ہیں اور حالات کے پیشِ نظر خود کو منظرِ عام سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ سعد رضوی انتشار پھیلانے، ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے سمیت متعدد کیسز میں مطلوب ہیں اور گرفتاری کے خوف سے نامعلوم مقام پر ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حافظ سعد رضوی واقعی تحویل میں ہوتے تو اس کی قانونی اور انتظامی کارروائی ریکارڈ پر ہوتی جبکہ ایسی کوئی مصدقہ دستاویز یا عدالتی پیشی موجود نہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ٹی ایل پی کی جانب سے ایسے بیانات کا مقصد کارکنان کو متحرک رکھنا اور عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور ایسی کسی کاروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے روپوش ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق سامنے نہ آنے کا فیصلہ خود کر رہے ہیں۔
دیکھیں: پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں بڑی مشق، جدید میزائل اور بغیر پائلٹ نظاموں کا کامیاب مظاہرہ