طورخم کے مقام پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ننگرہار میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر قریشی بدلون کے مطابق پاکستانی حکام نے افغان مہاجرین کی سہولت اور ان کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ طورخم بارڈر گزشتہ جمعرات کو بھی مہاجرین کی واپسی کے لیے مختصر مدت کے لیے کھولا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ حالیہ پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی کے ایک مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاک افغان سرحد کا یہ اہم مقام گزشتہ تین ماہ سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھا، جس کی بنیادی وجہ طالبان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی و سرحدی تنازعات اور سیکیورٹی خدشات تھے۔
سرحد کی بندش کے باعث ہزاروں افغان خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور تجارتی سرگرمیاں بھی معطل تھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے لیے سرحد کا کھلنا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک اہم قدم ہے، تاہم پائیدار حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مستقل بنیادوں پر مذاکرات اور اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں سرحد کی بار بار بندش جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔