پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر کی گئی حالیہ کارروائیوں کے بعد طالبان حکومت کو اندرونی سطح پر غیر معمولی قبائلی دباؤ کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق 22 فروری کو خوست، پکتیکا اور پکتیا سے تعلق رکھنے والے سات بڑے قبائل زدران، منگل، سلیمان خیل، خروٹی، زازی، احمدزئی اور کاکڑ نے طالبان حکام سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوؤں کو فوری طور پر ان کے علاقوں سے منتقل کیا جائے۔ قبائلی عمائدین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو قبائل اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔ وفد کی قیادت پادشاہ خان زدران (قبیلہ زدران)، عبدالجبار منگل (قبیلہ منگل) اور حکمت اللہ محسود (قبیلہ سلیمان خیل) نے کی۔ جرگہ اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ سرحدی علاقوں میں حکومت کے زیرِ سرپرستی عناصر کی موجودگی کے باعث پاکستانی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جان و مال اور کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ مقامی آبادی کو ہراساں کرنے، بھتہ خوری اور لوٹ مار میں بھی ملوث ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ زدران قبیلے کے افراد نے سراج الدین حقانی سے مداخلت کی درخواست کی، تاہم مبینہ طور پر ان کی جانب سے عملی اقدام نہ ہو سکا جس کے بعد پادشاہ خان زدران نے قبیلے کی نمائندگی سنبھالی۔ مبصرین کے مطابق اس جرگے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ زدران قبیلے کی قیادت سراج الدین حقانی سے منسوب کی جاتی ہے، خروٹی قبیلہ گلبدین حکمت یار سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ احمدزئی قبیلہ سابق صدر اشرف غنی سے نسبت رکھتا ہے۔ ان بااثر قبائل کا مشترکہ مطالبہ طالبان قیادت کے لیے ایک سنجیدہ اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گورنر پکتیا نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر قندھار میں امیر طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دفتر کو آگاہ کیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر دفاع ملا یعقوب اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس کے سربراہ عبدالحق وثیق کو مقامی گورنروں کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا یعقوب اور وثیق نے ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کو طلب کرنے اور جنگجوؤں کو شمالی علاقوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دینے پر غور کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے باضابطہ سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
ادھر کابل میں “افغان انڈیپنڈنس فرنٹ” نامی ایک نئے گروپ کے منظر عام پر آنے کی اطلاعات بھی ہیں، جس نے ویڈیو پیغام کے ذریعے طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ کا دعویٰ کیا ہے۔ قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم لہجے اور انداز کی بنیاد پر اسے شمالی علاقوں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان کابل سمیت کئی صوبوں میں موجود ہیں، مگر ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مجموعی طور پر صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرحدی کشیدگی کے بعد طالبان حکومت کو نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ اندرونی قبائلی بے چینی کا بھی سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کابل مقامی مطالبات کے مطابق عملی اقدامات کرتا ہے یا صورتِ حال مزید پیچیدہ رخ اختیار کرتی ہے۔