امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ قوم سے خطاب نے جہاں ایک جانب ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے جارحانہ مؤقف کو دہرایا، وہیں دوسری جانب اس تقریر نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ خطاب میں ایک نمایاں پہلو نیٹو کا مکمل طور پر غائب ہونا تھا، حالانکہ اس سے قبل ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ اس اتحاد کو “کاغذی شیر” قرار دیتے ہوئے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی کا عندیہ دے چکے تھے۔ مبصرین کے مطابق اگر امریکہ واقعی نیٹو سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے داخلی سطح پر قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں زیادہ تر وہی نکات دہرائے جو وہ گزشتہ دنوں اپنے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات میں پیش کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود پالیسی کی سطح پر واضح سمت کا فقدان نمایاں رہا۔ سب سے اہم سوالات میں یہ شامل ہے کہ آیا نیتن یاہو کی حکومت امریکی حکمت عملی سے مکمل طور پر متفق ہے یا نہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق زیرِ زمین یورینیم ذخائر کے حوالے سے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کی بحالی کے بارے میں صدر کا مؤقف بھی غیر واضح رہا، جہاں انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ راستہ “خود بخود” کھل جائے گا، مگر اس کی عملی صورت واضح نہیں کی گئی۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کو “پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے” کی سخت دھمکی دی، جس پر امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ایریزونا سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس یاسمین انصاری نے اس بیان کو “خوفناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا، جبکہ میری لینڈ سے سینیٹر کرس ہولن نے ٹرمپ پر حقائق چھپانے اور قوم کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ دوسری جانب ریپبلکن رہنما اسٹیو نے اس خطاب کو مضبوط اور مؤثر قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی کو ضروری دفاعی اقدام کہا۔
خارجہ پالیسی کے ماہرین بھی اس خطاب سے مطمئن نظر نہیں آئے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ بلنکن کی سابق مشیر میلیسا توفانیان کے مطابق اس خطاب کے بعد امریکی عوام مزید الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ نہ کوئی واضح حکمت عملی سامنے آئی اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن دی گئی۔ ان کے مطابق صدر کے دعوؤں کے برعکس یہ تاثر نہیں ملتا کہ امریکہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو “مستقبل کی نسلوں کے لیے سرمایہ کاری” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے اسٹریٹجک اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے ایران کی بحری، فضائی اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب تھا اور اسی بنیاد پر امریکہ کی کارروائی ناگزیر تھی۔
توانائی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے خود کردار ادا کریں یا امریکی تیل خریدیں۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی گئی، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹس میں مندی ریکارڈ کی گئی۔
خطاب میں صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل اور خلیجی ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ امریکہ انہیں کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ تاہم مجموعی طور پر اس خطاب نے جہاں جنگی عزم کو ظاہر کیا، وہیں پالیسی کی غیر وضاحت، متضاد بیانات اور اہم سوالات کے جواب نہ ملنے کی وجہ سے اسے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس جنگ میں “کامیابی” کی تعریف کیا ہے اور امریکہ اس تنازع کو کس مرحلے پر ختم کرے گا۔ موجودہ صورتحال میں یہ بات واضح ہے کہ پالیسی میں ابہام برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں امریکی حکمت عملی کسی بھی سمت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں