امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کو کم کرنے اور سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو مزید 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر جنگ کے خطرات ٹالنے کی ایک سنجیدہ کوشش اور اسلام آباد میں جاری پاکستانی سفارتی کوششوں کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی درخواست
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی باضابطہ درخواست پر وہ توانائی کے پلانٹس کی تباہی کے عمل کو پیر 6 اپریل 2026، رات 8 بجے (مشرقی وقت) تک روک رہے ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ مہلت مذاکراتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں اور ‘جعلی خبروں’ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری
دوسری جانب امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ اس اہم موڑ پر انتہائی متحرک نظر آ رہے ہیں۔ پاکستانی سفیر عالمی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار پر بریفنگ دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان سعید شیخ نے واشنگٹن میں اہم ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی غیر جانبدارانہ ثالثی اور امن کی کوششوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، جسے امریکی انتظامیہ میں بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
عالمی مذاکرات کا مرکز
یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست بات چیت کی میزبانی کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے حملوں کو مؤخر کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کا مرہونِ منت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کا مصالحتی کردار نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دیکھیے: بھارت کی جارحانہ پالیسی بے نقاب، لندن میں صحافی صفینہ خان کو قتل کی سنگین دھمکیاں