اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔

July 17, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

July 17, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے قافلے پر ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر فائرنگ ہوئی جس میں ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق اور سابق معاونِ خصوصی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

July 17, 2026

سری لنکا پولیس نے لنکا پریمیئر لیگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جعفنا کنگز فرنچائز کے بھارتی شریک مالک منجوت کلرا کو میچ فکسنگ کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

July 17, 2026

امریکی ایف بی آئی نے بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل کو ورمونٹ سے گرفتار کر لیا، جس پر قتل، اغوا، منشیات و اسلحہ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد ہیں۔

July 17, 2026

سکیورٹی فورسز نے بنوں اور ملحقہ علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 24 خوارج ہلاک کر دیے، ہلاک شدگان سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

July 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازعہ بیان: پاکستان سمیت دیگر ممالک پر جوہری تجربات کے الزامات عائد کر دیے

صدر ٹرمپ نے اس دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور کئی ممالک زیر زمین ایسے تجربات کرتے ہیں جنہیں عام طور پر محسوس نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازعہ بیان: پاکستان سمیت دیگر ممالک پر جوہری تجربات کے الزامات عائد کر دیے

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں جس میں پاکستان کو بین البراعظمی میزائل رکھنے والا ملک قرار دے کر عالمی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

November 3, 2025

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک دوبارہ جوہری تجربات کرے گا کیونکہ ان کے مطابق دیگر ممالک بشمول پاکستان، روس، چین اور شمالی کوریا بھی ایسے تجربات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے معروف پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔

انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے ان کے حالیہ اعلان سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ واقعی جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ “جی ہاں، ہم بھی وہی کریں گے جو دوسرے کر رہے ہیں۔” میزبان نے جواب میں کہا کہ واحد ملک جو اس وقت جوہری تجربات کر رہا ہے وہ شمالی کوریا ہے جبکہ چین اور روس اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ اس پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ “نہیں، روس اور چین بھی تجربات کر رہے ہیں، بس آپ کو معلوم نہیں۔”

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک کھلی جمہوری ریاست ہے جہاں میڈیا آزاد ہے، “ہم ان سے مختلف ہیں، ہم بات کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم نہ کریں تو آپ لوگ رپورٹ کریں گے۔ ان کے پاس ایسے رپورٹر نہیں ہیں جو اس بارے میں لکھیں۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ “ہم بھی تجربے کریں گے کیونکہ وہ کرتے ہیں اور یقیناً شمالی کوریا بھی تجربے کر رہا ہے، پاکستان تجربے کر رہا ہے۔”

صدر ٹرمپ نے اس دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور کئی ممالک زیر زمین ایسے تجربات کرتے ہیں جنہیں عام طور پر محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول “وہ زیر زمین تجربے کرتے ہیں جہاں لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے، صرف تھوڑی سی جنبش محسوس ہوتی ہے۔”

امریکی صدر سے جب دوبارہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ واقعی جوہری تجربات کرے گا، تو انہوں نے کہا کہ “آپ نے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور ان کا تجربہ نہیں کرتے، تو آپ کو کیسے معلوم کہ وہ کام کرتے ہیں؟ ہمیں یہ تجربے کرنے ہوں گے۔”

امریکہ کا آخری جوہری تجربہ 1992 میں نیواڈا کی زیر زمین سائٹ پر کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ دوبارہ تجربات کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو نیواڈا کے مقام کو دوبارہ فعال کرنے میں کم از کم 36 ماہ درکار ہوں گے۔

واشنگٹن کے آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیرل کیمبل کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے لیے کمپیوٹر سمولیشنز اور دیگر غیر دھماکہ خیز ذرائع استعمال کر رہا ہے، اس لیے براہ راست دھماکوں کی کوئی عملی ضرورت نہیں۔

کارنیج انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہر جیمی وانگ کے مطابق زیر زمین جوہری تجربات خود کئی ماحولیاتی خطرات پیدا کرتے ہیں، جن میں تابکاری کے اثرات اور زیر زمین پانی کی آلودگی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا پہلے ہی جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے دہانے پر کھڑی ہے اور ایسے اعلانات اس دوڑ کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔ جیمی وانگ نے کہا کہ “یہ لمحہ تشویش ناک ہے، امریکہ، روس اور چین ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔”

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین جنگ میں روس کی جوہری دھمکیاں، ایران اور اسرائیل کی کشیدگی، بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات، اور چین و تائیوان کے تناؤ نے پہلے ہی عالمی عدم استحکام بڑھا دیا ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کا معاہدہ آئندہ سال فروری میں ختم ہونے والا ہے، جس کے بعد نئی دوڑ کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق روس کے پاس 5,459 جوہری ہتھیار، امریکہ کے پاس 5,177، اور چین کے پاس 600 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ کے پاس سب سے زیادہ ہتھیار ہیں، درست نہیں۔

پاکستان نے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں جس میں پاکستان کو بین البراعظمی میزائل رکھنے والا ملک قرار دے کر عالمی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق بھارت خود اگنی 6 میزائل کا تجربہ کر چکا ہے، لیکن اس پر بین الاقوامی سطح پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

ماہر دفاعی امور سلمان جاوید نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ “کیا ٹرمپ نے واقعی یہ کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے تجربات کر رہا ہے؟ بالکل نہیں۔” ان کے مطابق بھارتی میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اس بیان کو غلط انداز میں پیش کیا۔ سلمان جاوید نے بتایا کہ انٹرویو دو نومبر 2025 کو سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ میں نشر ہوا اور اس کا ویڈیو کلپ تین نومبر کو سی بی ایس نیوز کے آفیشل اکاؤنٹ پر ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان دراصل اس تناظر میں دیا گیا جہاں وہ چین اور روس کے ممکنہ تجربات کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ پاکستان اور شمالی کوریا کا ذکر صرف میزائل ڈیلیوری سسٹمز کے حوالے سے آیا تھا، نہ کہ جوہری دھماکوں کے بارے میں۔ ان کے مطابق گفتگو کا مخصوص حصہ 14:06 سے 14:54 منٹ کے درمیان ہے جس میں ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ “پاکستان کے تجربات میری معلومات کے مطابق جوہری نوعیت کے نہیں ہیں۔”

سلمان جاوید کے مطابق “ہمارے ملک میں بعض عناصر اور بھارتی میڈیا نے اس بیان کو بلاوجہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جبکہ اصل تناظر یہ ہے کہ ٹرمپ ایک وسیع تر بیانیہ دے رہے تھے جس کا مقصد امریکی دفاعی تیاریوں کا جواز پیش کرنا تھا۔”

ٹرمپ کے بیان پر ماہرین نے عالمی استحکام کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ جوہری تجربات کا آغاز چین اور روس کو بھی اسی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا کو کسی نئی ہتھیاروں کی دوڑ کی نہیں بلکہ جوہری تخفیف کی ضرورت ہے۔

دیکھیں: چینی صدر شی جی پنگ اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات، تعلقات میں بہتری کا امکان

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔

July 17, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

July 17, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے قافلے پر ٹائیں ڈھلکوٹ کے مقام پر فائرنگ ہوئی جس میں ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق اور سابق معاونِ خصوصی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

July 17, 2026

سری لنکا پولیس نے لنکا پریمیئر لیگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جعفنا کنگز فرنچائز کے بھارتی شریک مالک منجوت کلرا کو میچ فکسنگ کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

July 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *