خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے حطار میں واقع حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک فیکٹری میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس افسوسناک حادثے میں فیکٹری اور قریبی رہائشی گھروں میں آگ لگنے کے باعث خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ حطار میں ادا کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا بلال احمد فیضی کے مطابق، حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری میں مبینہ طور پر گیس پائپ لائن پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس نے تیزی سے فیکٹری اور قریبی رہائشی گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئے۔
ریسکیو کا آپریشن
آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے مانسہرہ، ایبٹ آباد، مردان اور صوابی سے مزید 7 فائر وہیکلز اور فائر فائٹرز روانہ کیے گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے سخت محنت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو زندہ بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ جھلس جانے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
حکومتی ردِعمل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے ہری پور میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
شفیع جان نے کہا کہ ریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
تحقیقاتی کمیٹی کا قیام اور رپورٹ کا مطالبہ
اس خوفناک آتشزدگی کے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے کمشنر ہزارہ نے ڈپٹی کمشنر ہری پور، وسیم احمد کی نگرانی میں سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کر کے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔
حکومت نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے نے صنعتی علاقوں میں حفاظتی تدابیر اور گیس پائپ لائنز کے انفراسٹرکچر پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔