واشنگٹن میں منعقدہ غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کے دوران 11 جنگی طیارے گرائے گئے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ملک نہیں لڑ رہے تھے، لیکن وہ واقعی لڑ رہے تھے۔ 11 بہت مہنگے جنگی جہاز گرائے گئے۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے اور انہیں کس جانب سے مار گرایا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے دوران پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے تھے۔ مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپوں کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے براہِ راست رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو امریکہ دونوں ممالک پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔ ان کے بقول، ’جب بہت زیادہ مالی نقصان کی بات آئی تو دونوں نے کہا کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور اگر معاملہ مزید بڑھتا تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔
غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں پاکستان سمیت 47 ممالک شریک ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یہ آدمی پسند ہیں، میں نے ان سے اس وقت بات کی جب لڑائی جاری تھی۔‘ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کی بھی تعریف کی اور انہیں ’سخت جان اور بہترین جنگجو‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کو باور کرایا کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو امریکہ ان کے ساتھ تجارتی معاہدے نہیں کرے گا، جس کے بعد جلد ہی معاملات سلجھا لیے گئے۔
امریکی صدر نے غزہ امن بورڈ کو عالمی امن کے لیے ایک اہم فورم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مقاصد اور اہمیت کا کوئی متبادل نہیں۔ تاہم پاکستان اور انڈیا کے درمیان طیارے گرانے کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں پر تاحال متعلقہ ممالک کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔