واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ “آبنائے ہرمز کھولو، ورنہ تم جہنم میں دھکیل دیے جاؤ گے”، جبکہ انہوں نے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا بھی عندیہ دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ منگل کا دن ایران کیلئے “پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے” ہوگا، جس کے دوران پاور پلانٹس اور پلوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “منگل کو ایران میں جو کچھ کریں گے اس کا موازنہ کسی سے نہیں ہوگا”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھول دے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے، ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ ہم قہر ڈھا دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کو پہلے ہی 10 دن کی ڈیڈ لائن دی جا چکی تھی، جس میں سے اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کیلئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار پر سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، جبکہ حالیہ پیش رفت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی تجارت اور سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدرٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کردیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ غیرمتوازن رویے کی وجہ سے ٹرمپ اعلیٰ عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل نہیں۔
دیکھئیے:صدر ٹرمپ کی حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، متعدد اعلی شخصیات عہدے سے برطرف