تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ خوشحال خان مینا کابل میں ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر گئیں۔ نور والی محسود کی اہلیہ کو مقامی علاقے میں واقع دیوان بیگی بابا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کے اہلِ خانہ، قریبی رشتہ داروں اور مقامی افراد نے جنازے میں شرکت کی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنازے میں تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے بھی شرکت کی۔ اور جنازے کے دوران علاقے میں حفاظتی انتظامات کیے گئے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔
افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی
ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ کے کابل میں انتقال اور جنازے کا اہتمام ایک ایسا واضح ثبوت ہے جو پاکستان کے اس مسلسل موقف کو ایک مرتبہ پھر سچ ثابت کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ اور مکمل سرپرستی و معاونت حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ کا خاندان اگر دارالحکومت کابل میں مقیم ہے تو یہ صورتحال اس دعوے کی سراسر نفی کرتی ہے کہ افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے برعکس ایک ایسا گروہ جو پاکستان میں فساد و دہشت گردی پھیلاتا ہے، اسے افغان دارالحکومت کابل میں سیاسی و سماجی سرپرستی حاصل ہے۔
نیز یہ واقعہ خطے کی سلامتی کے لیے گہرے مضمرات رکھتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ جب ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں اس قدر محفوظ ہے کہ وہ اپنے سماجی امور بھی وہاں نمٹا سکتی ہے، تو پھر یہ گروہ پاکستان میں سرحد پار حملے کیسے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چلانے کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس خبر نے پاکستان کے بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو انسانی شکل دے دی ہے، جس کے بعد اب دنیا کے لیے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرپرستی سے انکار کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ صورت حال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں