پاکستان نے سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی نشاندہی کی گئی ہے

February 5, 2026

کابل سے موصول اطلاعات کے مطابق سادین آئی یلدز نے ایک روز قبل افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ترکی کی جانب سے کابل میں سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

February 5, 2026

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن “ردّالفتنہ-1” کی کامیاب تکمیل پر 216 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 36 معصوم شہری اور 22 بہادر جوان شہید ہوئے

February 5, 2026

ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ خوشحال خان مینا کابل میں ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر گئیں، انہیں دیوان بیگی بابا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا

February 5, 2026

اعلامیے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے جو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرے

February 5, 2026

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے کالعدم تنظیموں سے منسلک 7,500 سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے اور ان کے تمام اثاثے ضبط کر لیے ہیں

February 5, 2026

ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی اہلیہ کابل میں انتقال کر گئیں

ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ خوشحال خان مینا کابل میں ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر گئیں، انہیں دیوان بیگی بابا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا
ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ خوشحال خان مینا کابل میں ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر گئیں، انہیں دیوان بیگی بابا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا

جنازے کے دوران علاقے میں حفاظتی انتظامات کیے گئے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔

February 5, 2026

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ خوشحال خان مینا کابل میں ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر گئیں۔ نور والی محسود کی اہلیہ کو مقامی علاقے میں واقع دیوان بیگی بابا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کے اہلِ خانہ، قریبی رشتہ داروں اور مقامی افراد نے جنازے میں شرکت کی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنازے میں تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے بھی شرکت کی۔ اور جنازے کے دوران علاقے میں حفاظتی انتظامات کیے گئے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی

ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی اہلیہ کے کابل میں انتقال اور جنازے کا اہتمام ایک ایسا واضح ثبوت ہے جو پاکستان کے اس مسلسل موقف کو ایک مرتبہ پھر سچ ثابت کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ اور مکمل سرپرستی و معاونت حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ کا خاندان اگر دارالحکومت کابل میں مقیم ہے تو یہ صورتحال اس دعوے کی سراسر نفی کرتی ہے کہ افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے برعکس ایک ایسا گروہ جو پاکستان میں فساد و دہشت گردی پھیلاتا ہے، اسے افغان دارالحکومت کابل میں سیاسی و سماجی سرپرستی حاصل ہے۔

نیز یہ واقعہ خطے کی سلامتی کے لیے گہرے مضمرات رکھتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ جب ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں اس قدر محفوظ ہے کہ وہ اپنے سماجی امور بھی وہاں نمٹا سکتی ہے، تو پھر یہ گروہ پاکستان میں سرحد پار حملے کیسے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چلانے کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس خبر نے پاکستان کے بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو انسانی شکل دے دی ہے، جس کے بعد اب دنیا کے لیے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرپرستی سے انکار کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ صورت حال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں

متعلقہ مضامین

پاکستان نے سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی نشاندہی کی گئی ہے

February 5, 2026

کابل سے موصول اطلاعات کے مطابق سادین آئی یلدز نے ایک روز قبل افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ترکی کی جانب سے کابل میں سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

February 5, 2026

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن “ردّالفتنہ-1” کی کامیاب تکمیل پر 216 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 36 معصوم شہری اور 22 بہادر جوان شہید ہوئے

February 5, 2026

اعلامیے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے جو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرے

February 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *