...
ابراہیم قالن نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے زیادہ خطرناک مقاصد کارفرما ہیں، جن میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تنازع کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔

March 29, 2026

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی، جس میں سیکریٹری دفاع، برطانوی ہائی کمشنر اور ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

March 29, 2026

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

March 29, 2026

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

ایران جنگ خطے کو دہائیوں کی تباہی میں دھکیل سکتی ہے، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کا انتباہ

ابراہیم قالن نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے زیادہ خطرناک مقاصد کارفرما ہیں، جن میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تنازع کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔
ترکیہ خفیہ انٹیلیجنس کے سربراہ کا بیان

اس جنگ سے خطے میں تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے

March 29, 2026

انقرہ: ترکیہ کی خفیہ ایجنسی (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایک ایسی خطرناک علاقائی کشمکش کی بنیاد رکھ رہی ہے جو عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل دے گی۔

اپنے خطاب میں ابراہیم قالن نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے زیادہ خطرناک مقاصد کارفرما ہیں، جن میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تنازع کی بنیاد ڈالنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے خطے میں تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

ترک انٹیلی جنس چیف نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی بھی صورت خطے میں انتشار کی آگ کو بھڑکانے کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ اس آگ کو بجھانے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا اور کون اس کو وسعت دے رہا ہے۔

ابراہیم قالن نے قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی تمہید ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں لبنان، شام، فلسطین اور دیگر علاقوں میں نئے اور خطرناک حقائق جنم لے سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترک قیادت کی یہ وارننگ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ طویل جنگ کے خطرات کی سنجیدہ عکاسی کرتی ہے۔

دیکھئیے:ایران جنگ کے اثرات، بھارتی معیشت دباؤ کا شکار؛سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر نکال لئے

متعلقہ مضامین

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی، جس میں سیکریٹری دفاع، برطانوی ہائی کمشنر اور ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی سمیت اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

March 29, 2026

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

March 29, 2026

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.