اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوبنعاصم افتخار نے ادارے کو درپیش نقدی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی محض ایک بجٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن و استحکام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی سے عالمی امن مشنز کی صلاحیتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔
امن مشنز کی اہمیت اور چیلنجز
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کمزور تنازعات کو دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سب سے مؤثر اور کم خرچ ذریعہ ہیں۔ یہ مشنز سیاسی مکالمے، جنگ بندی کے نفاذ اور ریاستی اداروں کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ تاہم فنڈز کی کمی کا براہِ راست اثر فوجی دستوں کے گشت میں کمی، ادائیگیوں میں تاخیر اور مشنز کی عملی تیاری پر پڑ رہا ہے، جو شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
#PakistanAtUN
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 20, 2026
Pakistan Warns UN Liquidity Crisis Is Undermining Peacekeeping
Our Press Release today pic.twitter.com/dVklLlR5LP
عدم استحکام کا پھیلاؤ
پاکستانی مندوب نے متنبہ کیا کہ سرحد پار خطرات کے اس دور میں اگر غیر مستحکم ریاستیں مدد سے محروم رہیں تو وہ جلد ہی پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا مرکز بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل فیلڈ موجودگی اور فوری ردِعمل کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل کا ہونا ناگزیر ہے۔ مسلح گروہوں کو روکنے اور متحارب فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے امن دستوں کا فعال ہونا ضروری ہے۔
سرمایہ کاری کی ضرورت
پاکستان نے عالمی برادری پسے کہا ہے کہ امن مشنز میں سرمایہ کاری دراصل پیشگی سفارت کاری اور اجتماعی سلامتی میں سرمایہ کاری ہے۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ فوجیوں کے حوصلے اور سازوسامان کی تیاری کو برقرار رکھنے کے لیے مالی بحران کا فوری حل نکالنا ہو گا تاکہ عالمی امن کی کوششیں ثمر آور ثابت ہو سکیں۔