اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ حکومتی احکامات اور پالیسیوں کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کو بتدریج عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات ملک کے سماجی ڈھانچے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں خواتین پر عائد پابندیوں کا دائرہ کار محض سماجی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ زندگی کے تمام شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیوں نے ایک پوری نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہونے سے نہ صرف انفرادی ترقی رک گئی ہے بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے ماہر افرادی قوت کی تیاری میں بھی بڑے پیمانے پر رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کو ملازمتوں، پارکوں، کھیلوں کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات پر جانے سے روکنے کے اقدامات سفارتی اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے منافی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی نصف آبادی کو الگ تھلگ کر کے پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عالمی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پالیسیوں پر فوری نظرثانی کی جائے اور خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں ان کا جائز مقام فراہم کیا جائے تاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا سدِ باب ممکن ہو سکے۔